انجام آتھم — Page 335
۳۳۵ روحانی خزائن جلد ۱۱ ضمیمه رساله انجام آتھم تو نشان کا مصداق وہ ہوگا جس نے کھلے طور پر زور سے اپنے دعوی کا اظہار کیا ہے اور جس کی تکذیب بڑی ۵۱ سرگرمی اور زور شور سے ہوئی ہے۔ صادق کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ اس کی تکذیب بڑے زور شور سے ہوتی ہے۔ دیکھو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب میں منکرین نے ایک قیامت برپا کر دی تھی۔ اور مسیلمہ کذاب کو چپکے ہی قبول کر لیا تھا۔ صادق اوائل میں ستایا جاتا اور دکھ دیا جاتا ہے مگر آخر فتح پاتا ہے۔ کا ذب پہلے قبول کیا جاتا ہے۔ مگر آخر ذلیل ہوتا ہے۔ اور یہی سنت اللہ ہے کہ جب ایک شخص مدعی پیدا ہو پھر اگر وہ سچا ہے تو اس کی تائید کے لئے نشان پیدا ہوتے ہیں یہ نہیں کہ مدعی کا ابھی نام ونشان نہ ہو اور نشان پہلے ظاہر کیا جائے اور ایسے نشان پر کوئی نفع بھی مترتب نہیں ہوسکتا کیونکہ ممکن ہے کہ نشانوں کو دیکھ کر دعوئی کرنے والے بہت نکل آویں یہ بھی خیال کرنا چاہیے کہ اب خسوف کسوف کو تیسرا سال جاتا ہے بھلا بتاؤ کونسا دوسرا مہدی پیدا ہو گیا جو تمہارے نزدیک سچا ہے۔ ماسوا اس کے خسوف کسوف کا نشان ایک غضب اور انذار کا نشان ہے جو ان لوگوں کے لئے ظاہر ہونا چاہیے جو تکذیب میں سرگرم ہوں اور ان کی عقلوں پر ضلالت کا گرہن لگ گیا ہو۔ پھر جبکہ ابھی مہدی کا وجود ہی نہیں تو اس کا مکذب کون ہوگا ۔ جس کے ڈرانے کے لئے یہ انذاری نشان ظاہر ہوا۔ کیا عقل قبول کر سکتی ہے کہ غضب کا نشان تو ظاہر ہو جائے مگر جس کے لئے غضب کیا گیا ہے ابھی وہ موجود نہ ہو۔ یہ بھی سمجھو کہ ہر ایک نشان میں ایک سر ہوا کرتا ہے۔ سو ہم بیان کر چکے ہیں کہ خسوف کسوف میں یہی سر تھا کہ تا علماء کی ظلمانی حالت کا نقشہ جو بوجہ تکذیب ان میں پیدا ہوگئی آسمان پر ظاہر کیا جائے ۔ آسمان کا خسوف کسوف علماء کے خسوف کسوف کے لئے بطور ظل اور اثر کے تھا۔ اور پہلے خبر دی گئی تھی کہ علماء اس مہدی موعود کی تکذیب اور تکثیر کریں گے۔ اور وہ لوگ تمام دنیا سے بدتر ہوں گے ۔سوضرور تھا کہ ایسا ہی ظہور میں آتا۔ سو علماء نے اس زور شور سے تکذیب اور تکفیر کی کہ جو احادیث اور آثار میں پہلے سے لکھا گیا تھا وہ سب پورا کیا۔ اور اس طرح پر ان کی ایمانی روشنی مسلوب ہوئی اور ان کے دلوں پر انکار کی ظلمت کا خسوف کسوف لگ گیا اور پھر اس خسوف کسوف پر گواہی پیش کرنے کے لئے آسمان پر خسوف کسوف ہوا۔ پس اسی وجہ سے یہ دونوں خسوف کسوف انذار کے نشان ہیں۔ اور ہر ایک کسوف خسوف سے انذار ہی مطلوب ہوتا ہے۔ جیسا کہ حدیثوں میں اسی طرف اشارہ کرنے کے لئے آیا ہے کہ ہر ایک کسوف یا خسوف کے وقت نماز پڑھو، استغفار میں مشغول ہواور صدقہ دو۔ نوٹ چنانچہ بخاری مطبوعہ مصر صفحه ۲۲ اسطر ۲۰ میں ہے۔ عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم ان الله تعالى يخوف بهما عبادہ۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَمَا نُرْسِلُ بِالْايْتِ إِلَّا تَخْوِيْفًا منه بنی اسرائیل: ۶۰