انجام آتھم — Page 333
روحانی خزائن جلد ۱۱ ۳۳۳ ضمیمه رساله انجام آتھم نے اقرار کیا ہے کہ یہ خسوف و کسوف جو ا ر ا پریل ۱۸۹۴ء کو ہوگا۔ یہ ایک (۴۹) ایسا عجیب ہے کہ پہلے اس سے اس شکل اور صورت پر کبھی نہیں ہوا۔‘ دیکھو کفار گواہی دیتے ہیں کہ یہ کسوف خسوف خارق عادت ہے اور مولوی اعتراض کر رہے ہیں ۔ !!! چو کافر شناساتر از مولویست بریں مولویت بباید گریست پھر ایک اور اعتراض سادہ لوح عبد الحق کا یہ ہے کہ محدثین نے دار قطنی کی اس حدیث کے بعض راویوں پر جرح کیا ہے اس لئے یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ لیکن اس احمق کو سمجھنا چاہیے کہ حدیث نے اپنی سچائی کو آپ ظاہر کر دیا ہے کیونکہ اس کی پیشگوئی پوری ہو گئی ۔ پس اس صورت میں جرح سے حدیث کا کچھ نقصان نہیں ہوا ۔ بلکہ جنہوں نے جرح کیا ہے ان کی حماقت ظاہر ہوئی۔ راویوں کی تنقید اور ان کا جرح ایک ظنی امر ہے۔ اور ایک پیشگوئی کا پورا ہو جانا اور اس کا صدق مشاہدہ میں آ جانا یقینی امر ہے اور نن یقین کو اٹھا نہیں سکتا۔ رؤیت روایت پر مقدم ہے۔ مثلاً ایک بڑے معتبر راوی نے ایک جگہ بیان کیا کہ عبدالحق غزنوی فوت ہو گیا ہے پھر اتنے میں تم خود اس مجلس میں حاضر ہو گئے۔ تو اب میں پوچھتا ہوں کہ ان مجلس والوں کو جن کے پاس ایک معتبر روایت تمہاری موت کی پہنچ چکی تھی۔ کیا کرنا چاہیئے ؟ کیا تمہارا جنازہ پڑھا جائے یا زندہ دیکھ کر روایتوں کو رد کیا جائے ۔ اے کسی جنگل کے وحشی ! خبر معاینہ کے برابر نہیں ہو سکتی ۔ کیا تو نے ليس الخبر كالمعاينة کبھی نہیں سنا۔ آثار اور احادیث جو آحاد ہیں وہ مفید ظن ہے اور معاینہ مفید یقین ہے۔ پس کیا ظن یقین کو کچھ نقصان پہنچا سکتا ہے۔ فرض کیا کہ اس حدیث میں کوئی راوی کذاب ہے مفتری ہے شیعہ ہے۔ مگر جبکہ یہ پیشگوئی پوری ہوگئی تو اس طریق سے حدیث کی صحت پر شہادت پیدا ہوگئی۔ کسی کا کاذب ہونا قطعی طور پر اس کی روایت کو ر ڈ نہیں کر سکتا۔ کبھی کا ذب بھی بیچ بول سکتا ہے۔ دنیا میں ایسے لوگ بہت کم ہیں جنہوں نے ساری عمر جھوٹ نہ بولا ہو۔ تو کیا یقینی طور پر ان کی گواہی کو ر ڈ کر سکتے ہیں۔ پس ذرہ شرم کرو اور اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھو کہ تم نے اس حدیث کے دور اویوں عمر و اور جابر جعفی کو جھوٹا ٹھہرایا مگر ان کا جھوٹ ثابت نہیں۔ کسی نے ان کے جھوٹ کا شرعی ثبوت پیش نہیں کیا۔ بلکہ ان کی یہ روایت کسوف خسوف بچی نکلی۔ مگر تمہارا گندہ جھوٹ ایسی صفائی سے ثابت ہو گیا کہ تم عند الشرع سخت سزا کے لائق ٹھہر گئے اور وہ جھوٹ یہ ہے کہ تم نے حقیقت کو چھپانے کے لئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزہ کو باطل ٹھہرانے کی نیت سے گرہن کی تاریخوں کو بدل ڈالا۔ سورج چاند کا گرہن جس کی نسبت پیشگوئی ہے تمام