انجام آتھم — Page xxxvi
صاحب کرانوی مہاجر مکّی کے حاشیہ پر چھپی ہے تحریر فرماتے ہیں:۔۱۔’’حضرت عیسیٰ کا بن باپ ہونا تو عقلاً مشتبہ ہے اس لئے کہ حضرت مریم یوسف کے نکاح میں تھیں چنانچہ اس زمانہ کے معاصرین لوگ یعنی یہود جو کچھ کہتے ہیں سو ظاہر ہے۔‘‘ (صفحہ ۲۲) ۲۔’’اور ذرے گریبان میں سر ڈال کر دیکھو کہ معاذ اﷲ حضرت عیسیٰ کے نسب نامہ مادری میں دو جگہ تم آپ ہی زنا ثابت کرتے ہو (یعنی تامار اور اوریاہ‘‘ (صفحہ ۷۳) ۳۔’’ازانجملہ کلّیۃً یہ بات ہے کہ اکثر پیشین گوئیاں انبیائے بنی اسرائیل اور حواریوں کی ایسی ہیں جیسی خواب اور مجذوبوں کی بڑ۔۔۔۔۔۔۔پس اگر انہیں باتوں کا نام پیشگوئی ہے تو ہر ایک آدمی کے خواب اور ہر دیوانہ کی بات کو ہم پیشگوئی ٹھہرا سکتے ہیں۔‘‘ (صفحہ ۱۳۳) ۴۔’’عیسیٰ بن مریم کہ آخر درماندہ ہو کر دنیا سے انہوں نے وفات پائی‘‘ (صفحہ ۲۳۲) ۵۔’’اور سب عقلاء جانتے ہیں کہ بہت سے اقسام سحر کے مشابہ ہیں معجزات سے خصوصاً معجزاتِ موسویہ اور عیسویہ سے۔‘‘ (صفحہ ۳۳۶) ۶۔’’اشعیاہ اور ارمیاہ اور عیسیٰ کی غیب گوئیاں قواعد نجوم اور رمل سے بخوبی نکل سکتی ہیں بلکہ اس سے بہتر۔‘‘ (صفحہ ۳۳۶) ۷۔’’حضرت عیسیٰ کا معجزہ احیائے میت کا بعضے بھان متی کرتے پھرتے ہیں کہ ایک آدمی کا سر کاٹ ڈالا۔بعد اس کے سب کے سامنے دھڑ سے ملا کر کہا اُٹھ کھڑا ہو۔وہ اُٹھ کھڑا ہوا۔اور سانپ کو نیولے سے ٹکڑے ٹکڑے کروا دیا بعد اس کے سب ٹکڑے اس کے برابر رکھ کر تونبی بجائی اور وہ رینگنے لگا۔اور اچھا بھلا ہو گیا۔اور منتر سے جھاڑ پھونک کر دیو بھوت کو دفع کرنا اور بعض بیماریوں سے چنگا کرنا یہ تو سینکڑوں سے ہوتا دیکھا ہے۔‘‘ (صفحہ ۳۳۶) ۸۔’’یسوع نے کہا۔۔۔۔میرے لئے کہیں سر رکھنے کی جگہ نہیں۔دیکھو یہ شاعرانہ مبالغہ ہے اور صریح دنیا کی تنگی سے شکایت کرنا اقبح ترین امور ہے۔‘‘ (صفحہ ۳۴۹)