انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxv of 448

انجام آتھم — Page xxxv

ہم لوگ جس حالت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا سچّا نبی اور نیک اور راستباز مانتے ہیں تو پھر کیونکر ہماری قلم سے اُن کی شان میں سخت الفاظ نکل سکتے ہیں۔‘‘ (کتاب البریّہ،روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۱۱۹) ۶۔اور فرماتے ہیں:۔’’ہم اس بات کے لئے بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا سچّا اور پاک اور راستباز نبی مانیں اور اُن کی نبوت پر ایمان لاویں۔سو ہماری کسی کتاب میں کوئی ایسا لفظ بھی نہیں ہے جو اُن کی شان بزرگ کے برخلاف ہو۔اور اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ دھوکہ کھانے والا اور جھوٹا ہے۔‘‘ (ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۲۲۸) ۷۔اور فرماتے ہیں:۔’’حضرت مسیحؑ کے حق میں کوئی بے ادبی کا کلمہ میرے مُنہ سے نہیں نکلا یہ سب مخالفوں کا افتراء ہے۔ہاں چونکہ درحقیقت کوئی ایسا یسوع مسیح نہیں گذرا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا ہو اور آنے والے نبی خاتم الانبیاء کو جھوٹا قرار دیا ہو اور حضرت موسیٰ کو ڈاکو کہا ہو اِس لئے مَیں نے فرض محال کے طور پر اس کی نسبت ضرور بیان کیا ہے کہ ایسا مسیح جس کے یہ کلمات ہوں راستباز نہیں ٹھہر سکتا لیکن ہمارا مسیح ابن مریم جو اپنے تئیں بندہ اور رسول کہلاتا ہے اور خاتم الانبیاء کا مصدّق ہے اُس پر ہم ایمان لاتے ہیں۔‘‘ (تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۳۰۵ حاشیہ ) کیا کوئی منصف مزاج مذکورہ بالا تصریحات کے باوجود کہہ سکتا ہے کہ آپؑ نے نعوذ باﷲ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دی ہیں اور اُن کی توہین کی ہے۔اور متکلّمین کا ہمیشہ سے یہ طریق چلا آیا ہے کہ وہ فریقِ مخالف کی مسلّمات کی بنا پر بطور الزامی جواب کلام کرتے ہیں حالانکہ اُن کا اپنا وہ عقیدہ نہیں ہوتا۔مثال کے طور پر میں اہلسنت و الجماعت کے اُن دو علماء کے اقوال پیش کرتا ہوں جو فنِّ مناظرہ میں غایت درجہ شہرت رکھتے ہیں بلکہ علمائے اہل سنت کے مقتداء مانے جاتے ہیں۔اُن میں سے ایک مولوی آل حسن صاحب ہیں۔وہ اپنی کتاب ’’استفسار‘‘ میں جو ’’ازالۃ الاوہام‘‘ مؤلفہ مولوی رحمت اﷲ