انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxvii of 448

انجام آتھم — Page xxxvii

۹۔’’اِن (پادری صاحبان) کا اصل دین و ایمان آ کر یہ ٹھہرا ہے کہ خدا مریم کے رحم میں جنین بن کر خون حیض کا کئی مہینے تک کھاتا رہا۔اور علقہ سے مضغہ بنا اور مضغہ سے گوشت اور اُس میں ہڈیاں بنیں۔بعد اس کے مخرج معلوم سے نکلا۔اور ہگتا موتتا رہا۔یہاں تک کہ جوان ہو کر اپنے بندے یحییٰ کا مرید ہوا اور آخر کار ملعون ہو کر تین دن دوزخ میں رہا۔‘‘ (صفحہ ۳۵۰،۳۵۱) ۱۰۔پس معلوم ہو اکہ حضرت عیسیٰ کا سب بیان معاذ اﷲ جھوٹ ہے اور کرامتیں اگر بالفرض ہوئی بھی ہوں تو ویسی ہی ہوں گی جیسی مسیح دجّال کی ہونے والی۔‘‘ (صفحہ ۳۶۹) ۱۱۔’’یہودی لوگ کہتے ہیں کہ ہم میں سے جو لوگ توریت کے عالم تھے انہوں نے تو حضرت عیسیٰ سے کوئی معجزہ دیکھا نہیں اور چند مچھووں اور ملاّحوں احمقوں کا کیا اعتبار۔عوام الناس تو ذرے سے شعبدہ میں آ جاتے ہیں۔‘‘ (صفحہ۳۷۱) ۱۲۔’’تیسری انجیل کے آٹھویں باب کے دوسرے اور تیسرے درس سے ظاہر ہے کہ بہتیری رنڈیاں اپنے مال سے حضرت عیسیٰ کی خدمت کرتی تھیں اور سات سات پھرا کرتی تھیں۔پس اگر کوئی یہودی از راہ خباثت اور بدباطنی کے کہے کہ حضرت عیسیٰ خوش رو نوجوان تھے۔رنڈیاں اُن کے ساتھ صرف حرام کاری کے لئے رہتی تھیں۔اِسی لئے حضرت عیسیٰ نے بیاہ نہ کیا اور ظاہر یہ کرتے تھے کہ مجھے عورت سے رغبت نہیں توکیا جواب ہو گا؟ اور پہلی انجیل کے باب یازدہم کے درس نوزدہم میں حضرت عیسیٰ نے مخالفوں کا خیال اپنے حق میں قبول کر کے کہا کہ میں تو بڑا کھاؤ اور شرابی ہوں پس دونوں باتوں کے ملانے سے اور شراب کی بدمستیوں کے لحاظ سے جو کوئی کچھ بدگمانی نہ کرے سو تھوڑا ہے اور دشمن کی نظر میں ان باتوں سے کیسی تن آسانی اور بے ریاضتی حضرت عیسیٰ کی بُوجھی جاتی ہے۔‘‘ (صفحہ ۳۹۰،۳۹۱) ۱۳۔’’حضرت عیسیٰ نے یہودیوں کو حد سے زیادہ جو گالیاں دیں تو ظلم کیا‘‘ (صفحہ ۴۱۹) ہم نے یہ بطور نمونہ اُن کی کتاب سے بعض عبارات پیش کی ہیں۔اور وہ آخر میں