انجام آتھم — Page 310
روحانی خزائن جلد 1 ۳۱۰ ضمیمه رساله انجام آتھم (۲۶) میرے پاس نشان دیکھنے کے لئے رہیں اور یا اشتہار شائع کر کے اپنے ہی گھر میں میرے نشان کی گیا تھا اور انہیں میں سے یہ عربی مکتوب ہے جواب نکلا ۔ کیا عبد الحق اور کیا اس کے دوسرے بھائی ان رسائل کے مقابل پر مر گئے اور کچھ بھی لکھ نہ سکے اور دنیا نے یہ فیصلہ کر دیا کہ عربی دانی کی عزت اسی شخص یعنی اس راقم کے لئے مسلم ہے جس کو کا فر ٹھہرایا گیا ہے اور یہ سب مولوی جاہل ہیں۔ اب سوچو کہ یہ عزت کی تعریفیں مجھ کو کس وقت ملیں۔ کیا مباہلہ کے بعد یا اس کے پہلے ۔ سو یہ ایک مباہلہ کا اثر تھا کہ خدا نے ظاہر کیا۔ اسی وقت میں خدا نے شیخ حسین بطالوی کا وہ الزام کہ اس شخص کو عربی میں ایک صیغہ نہیں آتا میرے سر پر سے اتارا اور محمدحسین اور دوسرے مخالفین کی جہالت کو ظاہر کیا۔ فالحمد للہ علی ذالک۔ تیسرا وہ امر جو مباہلہ کے بعد میری عزت کا موجب ہوا وہ قبولیت ہے جو مباہلہ کے بعد دنیا میں کھل گئی۔ مباہلہ سے پہلے میرے ساتھ شاید تین چار سو آدمی ہوں گے اور اب آٹھ ہزار سے کچھ زیادہ وہ لوگ ہیں جو اس راہ میں جاں فشاں ہیں۔ اور جس طرح اچھی زمین کی کھیتی جلد جلد نشو و نما پکڑتی اور بڑھتی جاتی ہے ایسا ہی فوق العادت طور پر اس جماعت کی ایک ترقی ہورہی ہے۔ نیک روحیں اس طرف دوڑتی چلی آتی ہیں۔ اور خدا از مین کو ہماری طرف کھینچتا چلا آتا ہے۔ مباہلہ کے بعد ہی ایک ایسی عجیب قبولیت پھیلی ہے کہ اس کو دیکھ کر ایک رفت پیدا ہوتی ہے۔ ایک دواینٹ سے اب ایک محل طیار ہو گیا ہے۔ اور ایک دو قطرہ سے اب ایک نہر معلوم ہوتی ہے۔ ذرہ آنکھیں کھولو اور پنجاب اور ہندوستان میں پھرو۔ اب اکثر جگہ ہماری جماعتیں پاؤ گے۔ فرشتے کام کر رہے ہیں اور دلوں میں نور ڈال رہے ہیں۔ سود یکھو مباہلہ کے بعد کیسی عزت ہم کو لی ۔ سچ کہو کیا یہ خدا کا فعل ہے یا انسان کا ۔ چوتھا وہ امر جو مباہلہ کے بعد میری عزت کا موجب ہوا ۔ رمضان میں خسوف کسوف ہے ۔ کتب حدیث میں صد ہا برسوں سے یہ لکھا ہوا چلا آتا تھا کہ مہدی کی تصدیق کے لئے رمضان میں خسوف کسوف ہوگا۔ اور آج تک کسی نے نہیں لکھا کہ پہلے اس سے کوئی ایسا مہدویت کا مدعی ظاہر ہوا تھا جس کو خدا نے یہ عزت دی ہو کہ اس کے لئے رمضان میں خسوف کسوف ہو گیا ہو ۔ سوخدا نے مباہلہ کے بعد یہ عزت بھی میرے نصیب کی ۔ اے اندھو ! اب سوچو کہ مباہلہ کے بعد یہ عزت کس کو ملی ۔ عبد الحق تو میری ذلت کے لئے دعائیں کرتا تھا۔ یہ کیا واقعہ پیش آیا کہ آسمان بھی مجھے عزت دینے کے لئے جھکا