انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 311 of 448

انجام آتھم — Page 311

روحانی خزائن جلد ۱ ۳۱۱ ضمیمه رساله انجام آتھم ایک برس تک انتظار کریں۔ اور یا مباہلہ کرلیں شیشم اور اگر ان باتوں میں سے کوئی بھی نہ کریں تو مجھ سے (۲۷) کیا تم میں ایک بھی سوچنے والا نہیں جو اس بات کو سو ہے ۔ کیا تم میں ایک بھی دل نہیں جو اس بات کو سمجھے۔ زمین نے عزت دی ۔ آسمان نے عزت دی اور قبولیت پھیل گئی۔ پانچواں وہ امر جو مباہلہ کے بعد میرے لئے عزت کا موجب ہوا۔ علم قرآن میں اتمام حجت ہے۔ میں نے یہ علم پا کر تمام مخالفوں کو کیا عبد الحق کا گروہ اور کیا بطالوی کا گروہ ۔ غرض سب کو بلند آواز سے اس بات کے لئے مدعو کیا کہ مجھے علم حقائق اور معارف قرآن دیا گیا ہے ۔ تم لوگوں میں سے کسی کی مجال نہیں کہ میرے مقابل پر قرآن شریف کے حقائق و معارف بیان کر سکے۔ سو اس اعلان کے بعد میرے مقابل ان میں سے کوئی بھی نہ آیا۔ اور اپنی جہالت پر جو تمام ذلتوں کی جڑ ہے انہوں نے مہر لگادی۔ سو یہ سب کچھ مباہلہ کے بعد ہوا۔ اور اسی زمانہ میں کتاب کرامات الصادقین لکھی گئی۔ اس کرامت کے مقابل پر کوئی شخص ایک حرف بھی نہ لکھ سکا۔ تو کیا اب تک عبد الحق اور اس کی جماعت ذلیل نہ ہوئی۔ اور کیا اب تک یہ ثابت نہ ہوا کہ مباہلہ کے بعد یہ عزت خدا نے مجھے دی۔ چھٹا امر جو مباہلہ کے بعد میری عزت اور عبد الحق کی ذلت کا موجب ہوا یہ ہے کہ عبد الحق نے مباہلہ کے بعد اشتہار دیا تھا کہ ایک فرزند اس کے گھر میں پیدا ہو گا۔ اور میں نے بھی خدا تعالیٰ سے الهام پا کر یہ اشتہار انوار الاسلام میں شائع کیا تھا کہ خدا تعالیٰ مجھے لڑکا عطا کرے گا۔ سوخدا تعالیٰ کے فضل اور کرم سے میرے گھر میں تو لڑکا پیدا ہو گیا ۔ جس کا نام شریف احمد ہے اور قریباً پونے دو برس کی عمر رکھتا ہے۔ اب عبد الحق کو ضرور پوچھنا چاہیے کہ اس کا وہ مباہلہ کی برکت کا لڑکا کہاں گیا۔ کیا اندر ہی اندر پیٹ میں تحلیل پا گیا یا پھر رجعت قہقری کر کے نطفہ بن گیا۔ کیا اس کے سوا کسی اور چیز کا نام ذلت ہے کہ جو کچھ اس نے کہا وہ پورا نہ ہوا اور جو کچھ میں نے خدا کے الہام سے کہا خدا نے اس کو پورا کر دیا۔ چنانچہ رسالہ ضیاء الحق میں بھی اسی لڑکے کا ذکر لکھا گیا ہے۔ ساتواں امر جو مباہلہ کے بعد میری عزت اور قبولیت کا باعث ہوا خدا کے راستباز بندوں کا وہ مخلصانہ جوش ہے جو انہوں نے میری خدمت کے لئے دکھلایا ۔ مجھے کبھی یہ طاقت نہ ہوگی کہ میں خدا کے ان احسانات کا شکر ادا کر سکوں جو روحانی اور جسمانی طور پر مباہلہ کے بعد میرے وارد حال ہو گئے ۔ روحانی انعامات کا نمونہ میں لکھ چکا