انجام آتھم — Page 309
روحانی خزائن جلد ا ۳۰۹ ضمیمه رساله انجام آتھم بالمقابل ایک جگہ بیٹھ کر زبان عربی میں میرے مقابل میں سات آیت قرآنی کی تفسیر لکھیں اور یا ایک سال تک (۲۵) ان تمام واقعات سے اطلاع پاوے تا اس کی بے خبری اس کی شفیع نہ ہو۔ پھر بعد اس سے قسم کھا دے کہ یہ خدا تعالی کی طرف سے نہیں اور جھوٹی ہے۔ پھر اگر وہ ایک سال تک اس قسم کے وبال سے تباہ نہ ہو جائے اور کوئی فوق العادت مصیبت اس پر نہ پڑے تو دیکھو کہ میں سب کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ اس صورت میں میں اقرار کروں گا کہ ہاں میں جھوٹا ہوں ۔ اگر عبدالحق اس بات پر اصرار کرتا ہے تو وہی قسم کھاوے اور اگر محمد حسین بطالوی اس خیال پر زور دے رہا ہے تو وہی میدان میں آوے اور اگر مولوی احمد اللہ امرتسری یا ثناء اللہ امرتسری ایسا ہی سمجھ رہا ہے تو انہیں پر فرض ہے کہ قسم کھانے سے اپنے تقوی دکھلا دیں اور یقینا یاد رکھو کہ اگر ان میں سے کسی نے قسم کھائی کہ آتھم کی نسبت پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور عیسائیوں کی فتح ہوئی تو خدا اس کو ذلیل کرے گا۔ روسیاہ کرے گا اور لعنت کی موت سے اس کو ہلاک کرے گا کیونکہ اس نے سچائی کو چھپانا چاہا جو دین اسلام کے لئے خدا کے حکم اور ارادہ سے زمین پر ظاہر ہوئی۔ مگر کیا یہ لوگ قسم کھا لیں گے؟ ہر گز نہیں کیونکہ یہ جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح جھوٹھ کا مردار کھا رہے ہیں۔ اب اگر کوئی یہ سوال کرے کہ اگر چہ عبد الحق کے مباہلہ میں اس طرف سے کسی بددعا کا ارادہ نہ کیا گیا ہومگر جو صادق کے سامنے مباہلہ کے لئے آیا ہو ۔ کسی قدر تو بعد مباہلہ ایسے امور کا پایا جانا چاہیے جن پر غور کرنے سے اس کی ذلت اور نا مرادی پائی جائے اور اپنی عزت دکھلائی دے۔ سو جانا چاہئے کہ وہ امور بہ تفصیل ذیل ہیں جو بحکم وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ ل ہماری عزت کے موجب ہوئے۔ اوّل ۔ آتھم کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی تھی وہ اپنے واقعی معنوں کے رو سے پوری ہوگئی۔ اور اس دن وہ پیشگوئی بھی پوری ہوئی جو پندرہ برس پہلے براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۴۱ میں لکھی گئی تھی ۔ آتھم اصل منشاء الہام کے مطابق مرگیا اور تمام مخالفوں کا منہ کالا ہوا۔ اور ان کی تمام جھوٹی خوشیاں خاک میں مل گئیں ۔ اس پیشگوئی کے واقعات پر اطلاع پا کر صد ہا دلوں کا کفر ٹوٹا اور ہزاروں خط اس کی تصدیق کے لئے پہنچے ۔ اور مخالفوں اور مکذبوں پر وہ لعنت پڑی جواب دم نہیں مار سکتے ۔ دوسرا وہ امر جو مباہلہ کے بعد میری عزت کا موجب ہوا وہ ان عربی رسالوں کا مجموعہ ہے جو مخالف مولویوں اور پادریوں کے ذلیل کرنے کے لئے لکھا القصص : ۸۴