انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 302 of 448

انجام آتھم — Page 302

٣٠٢ روحانی خزائن جلد ا ضمیمه رساله انجام آتھم سے انکار کرتے ہیں۔ کیا اس قدر اخبار غیب ہو کوئی خود بخود تراش سکتا ہے۔ اور کیا یہ ایک کذاب کی نشانی ہے کہ اس طور سے خدا اس کی تائید کرے اور ایسے عام جلسوں میں جھوٹے دجال کو عزت دنیا میں بہت نادان اس دھو کہ میں پڑے ہوئے ہیں کہ وہ اس اعلام غیب کو جو خدا تعالیٰ کے خاص بندوں کو اس کی طرف سے ہوتا ہے بنظر تو ہین اور تحقیر دیکھتے ہیں۔ بعض جاہل سجادہ نشین اور فقیری اور مولویت کے شتر مرغ الہام کے معارف کو سنتے ہی جلد بول اٹھتے ہیں کہ یہ کچھ حقیقت نہیں۔ یہ تو ہمارے ادنی مریدوں کو بھی ہوا کرتا ہے۔ بعض کہہ دیتے ہیں کہ یہ ابتدائی حالات کا ایک ناقص مرتبہ ہے جس سے آگے گزر جانا چاہئے ۔ اور ہم نے اپنی دستگیری سے مریدوں کو اوپر کی طرف کھینچنا ہے۔ یہ کچھ نہیں لیتی ہے۔ لیکن جانا چاہئے کہ یہ سب شیاطین الانس ہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی طرح خدا کے نور کو بجھاد ہیں۔ یہ تو سچ ہے کہ کبھی سچی خواب ادنی مومن یا کافرکو بھی آجاتی ہے اور کوئی ٹوٹا پھوٹا فقرہ الہام کے رنگ میں ہر ایک مومن کے دل میں القا ہو سکتا ہے بلکہ کبھی ایک فاسق بھی تنبیہ یا ترغیب کے طور پر پا سکتا ہے۔ مگر وہ امر جس کو یہ عاجز پیش کرتا ہے یعنی مکالمات الہیہ وہ بغیر خاص اور برگزیدہ بندوں کے کسی کو عطا نہیں کیا جاتا ۔ یہ تو ظاہر ہے کہ ادنی مشارکت سے کوئی شخص اس لقب کا مستحق نہیں ہو سکتا جو حضرت احدیت کے فضل سے اکمل اور اتم فرد کے لئے مخصوص ہے۔ دنیا کے کمالات کی طرف نظر کر کے دیکھو۔ کیا کسی دیوار پر ایک اینٹ لگانے سے کوئی شخص کامل معماروں میں شمار ہوسکتا ہے یا ایک دوا بتلانے سے ڈاکٹر کہلا سکتا ہے۔ یا عربی یا انگریزی کا ایک لفظ سیکھنے سے اس زبان کا امام تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ یوں تو چوہڑوں چماروں اور فاستوں کو بھی خدا کے پاک نبیوں سے خواب دیکھنے میں مشارکت ہے۔ مگر کیا اس ایک دروی مشارکت سے تمام فاسق انبیاء کے ہم پایہ اور ہم مرتبہ شمار کئے جائیں گے۔ یہ جہلاء کی غلطیاں ہیں کہ جو قلت تدبر سے ان کے نفوس امارہ پر محیط ہورہی ہیں۔ ہاں یہ بیچ ہے کہ نا تمام صوفیوں بلکہ فاسقوں اور فاجروں اور کافروں سے بھی خدا تعالیٰ کی یہ سنت جاری ہے کہ کبھی وہ سچی خواہیں دیکھتے ہیں۔ بعض وقت کوئی ٹوٹا پھوٹا فقرہ بطور الہام بھی سن لیتے ہیں۔ بعض وقت کشفی طور پر کسی مردہ کو دیکھ لیتے یا کشف قبور کے رنگ میں کسی روح سے ملاقات کر لیتے ہیں ۔ مگر وہ ایسے نا تمام نظاروں سے کسی کمال کے وارث نہیں کہلا سکتے۔ اور خدا تعالیٰ ان بدکاروں یا نا تمام فقیروں کو اس لئے رویایا کشف یا