انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 303 of 448

انجام آتھم — Page 303

٣٠٣ ضمیمه رساله انجام آنقم روحانی خزائن جلد ۱۱ دکے اور محمد حسین جیسے راستباز کو اگر وہ راستباز ہے ذلیل اور روسیاہ کرے۔ کیا یہ خدا کا فعل تھا یا (19) الہام کا مزہ چکھاتا ہے کہ تا وہ یقین کر لیں کہ یہ قوت کمی طور پر ہر ایک میں موجود ہے۔ اور ہر ایک کے لئے ترقی کی راہ کھلی ہے خدا نے کسی کو روکنا نہیں چاہا۔ سو یہ نمائش جو نا تمام فقراء یا فاسقوں اور فاجروں کو ہوتی ہے۔ یہ صرف اسی غرض کے لئے ہے کہ تا ان کی ہمتیں مضبوط ہوں۔ اور ان کا شوق بڑھے اور آگے قدم رکھنے کے لئے تیار ہوں۔ اور اس نمائش میں بہت سی اضغاث احلام بھی داخل ہو جاتی ہیں۔ غرض کمال کی یہ علامت نہیں۔ ہاں صحت استعداد کی کسی قدر علامت ہے۔ اور میں اعلان سے کہتا ہوں کہ جس قدر فقراء میں سے اس عاجز کے مکفر یا مکذب ہیں وہ تمام اس کامل نعمت مکالمہ الہیہ سے بے نصیب ہیں اور محض یا وہ گو اور ژاثر خا ہیں۔ اور مکالمہ الہیہ کی حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے نبیوں کی طرح اس شخص کو جو فنافی النبی ہے اپنے کامل مکالمہ کا شرف بخشے ۔ اس مکالمہ میں وہ بندہ جو کلیم اللہ ہو خدا سے گویا آمنے سامنے باتیں کرتا ہے۔ وہ سوال کرتا ہے خدا اس کا جواب دیتا ہے۔ گو ایسا سوال جواب پچانش دفعہ واقعہ ہو یا اس سے زیادہ بھی ۔ خدا تعالیٰ اپنے مکالمہ کے ذریعہ سے تین نعمتیں اپنے کامل بندہ کو عطا فرماتا ہے۔اول ۔ ان کی اکثر دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ اور قبولیت سے اطلاع دی جاتی ہے۔ دوم اس کو خدا تعالی بہت سے امور غیبیہ پر اطلاع دیتا ہے۔ سوم ۔ اس پر قرآن شریف کے بہت سے علوم حکمیہ بذریعہ الہام کھولے جاتے ہیں۔ پس جو شخص اس عاجز کا مکذب ہوکر پھر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ ہنر مجھ میں پایا جاتا ہے میں اس کو خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ ان تینوں باتوں میں میرے ساتھ مقابلہ کرے اور فریقین میں قرآن شریف کے کسی مقام کی سات آیتیں تفسیر کے لئے بالا تفاق منظور ہو کر ان کی تفسیر دونوں فریق لکھیں یعنی فریق مخالف اپنے الہام سے اس کے معارف لکھے اور میں اپنے الہام سے لکھوں اور چند ایسے الہام قبل از وقت وہ پیش کرے جن میں قبولیت دعا کی بشارت ہو۔ اور وہ دعا فوق الطاقت ہو ایسا ہی میں بھی پیش کروں اور چند امور غیبیہ جو آنے والے زمانہ سے متعلق ہیں وہ قبل از وقت ظاہر کرے اور ایسا ہی میں بھی ظاہر کروں اور دونوں فریق کے یہ بیان اشتہارات کے ذریعہ سے شائع ہو جائیں تب ہر ایک کا صدق کذب کھل جائے گا۔ مگر یا درکھنا چاہئے کہ ہرگز ایسا نہیں کر سکیں گے مکذبین کے دلوں پر خدا کی لعنت ہے خدا ان کو نہ قرآن کا نور دکھلائے گا نہ بالمقابل دعا کی استجابت جو اعلام قبل از وقت کے ساتھ ہو اور نہ امور غیبیہ پر اطلاع دے گافَلَا يُظْهِرُ عَلى غَيْبَةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ لا پس اب میں نے یہ اشتہار دے دیا ہے جو شخص اس کے بعد اس سیدھے طریق سے میرے ساتھ مقابلہ نہ کرے اور نہ تکذیب سے باز آوے وہ خدا کی لعنت فرشتوں کی لعنت اور تمام صلحاء کی لعنت کے نیچے ہے۔ وما على الرسول الا البلاغ منه الجن : ۲۸،۲۷