انجام آتھم — Page 294
۲۹۴ روحانی خزائن جلد 1 ضمیمه رساله انجام آتھم (۱۰) اور سورج کو گرہن لگے گا۔ چنانچہ وہ گرہن لگ گیا ۔ اور کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ مجھ سے پہلے کوئی اور بھی ایسا مدعی گذرا ہے جس کے دعوی کے وقت میں رمضان میں چاند اور سورج کا گرہن ہوا ہو ۔ سو یہ ایک بڑا بھاری نشان ہے جو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے ظاہر کیا۔ دار قطنی کی حدیث میں کوئی اغلاق نہیں۔ جس طرح پر خسوف کسوف ظہور میں آیا وہ سراسر حدیث کے الفاظ کے موافق ہے چنانچہ میں نے اسی خسوف کسوف رمضان کی نسبت عربی میں ایک رسالہ لکھا ہے اس میں اس حدیث کی مفصل شرح کر دی گئی ہے۔ اور یہ کہنا کہ اس حدیث میں بعض راویوں پر محدثین نے جرح کیا ہے۔ یہ قول سراسر حماقت ہے۔ کیونکہ یہ حدیث ایک پیشگوئی پر مشتمل تھی جو اپنے وقت پر پوری ہوگئی ۔ پس جبکہ حدیث نے اپنی سچائی کو آپ ظاہر کر دیا تو اس کی صحت میں کیا کلام ہے۔ ایسے لوگ چار پائے ہیں نہ آدمی جن کے دل میں بعد قیام دلائل صحت پھر بھی شبہ رہ جاتا ہے فرض کیا کہ محدثین کی طرز تحقیق میں اس حدیث کی صحت میں کچھ شہرہ گیا تھا۔ مگر دوسرے پہلو سے وہ شبہ رفع ہو گیا۔ محدثین نے اس بات کا ٹھیکہ نہیں لیا کہ جو حدیث ان کی نظر میں قاعدہ تقید رواۃ کی رو سے کچھ ضعف رکھتی ہو وہ ضعف کسی دوسرے طریق سے دور نہ ہو سکے۔ اس حدیث کو تو کسی شخص نے وضعی قرار نہیں دیا اور اہل سنت اور شیعہ دونوں میں پائی جاتی ہے اور اہل حدیث خوب جانتے ہیں کہ صرف محدثین کا فتوی قطعی طور پر کسی حدیث کے صدق یا کذب کا مدار نہیں ٹھہر سکتا۔ بلکہ یہاں تک ممکن ہے کہ ایک حدیث کو محدثین نے وضعی قرار دیا ہو اور اس حدیث کی پیشگوئی اپنے وقت پر پوری ہو جائے اور اس طرح پر اس حدیث کی صحت کھل جائے ۔ ہمیں اصل غرض تحقیق صحت سے ہے نہ محدثین کے قواعد سے۔ پس یہ نہایت بے ایمانی اور بددیانتی ہے کہ جب خدا تعالیٰ کسی اور پہلو سے کسی حدیث کو ظاہر کر دے اور اطمینان بخش ثبوت دیدے تب بھی ان ظنون فاسدہ کو نہ چھوڑیں کہ فلاں شخص نے فلاں راوی کی نسبت یہ شکوک پیش کئے تھے۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسا کہ معتبر راویوں کے بیان سے بقیه حاشیه ضرور اس کو اس خطرناک خدمات پا دریا نہ منصب سے علیحدہ کر دیں۔ اور اس کو اس نوکری سے موقوف کر دینا سراسر اس پر احسان ہے۔ ورنہ معلوم نہیں کہ اس گندی پلید زبان کا انجام کیا ہو گا ۔ منہ