انجام آتھم — Page 295
روحانی خزائن جلد ۱۱ ۲۹۵ ضمیمه رساله انجام آتھم کسی کی موت ثابت ہو اور پھر وہ شخص جو مردہ قرار دیا گیا ہے حاضر ہو جائے اور اس کے حاضر ہونے کے پر بھی اس کی زندگی پر اعتبار نہ کریں اور یہ کہیں کہ راوی بہت معتبر ہیں ہم اس کو زندہ نہیں مان سکتے ۔ ایسا ہی ان بد بخت مولویوں نے علم تو پڑھا مگر عقل اب تک نزدیک نہیں آئی۔ اس جگہ اس حکمت کا بیان کرنا بھی فائدہ سے خالی نہیں کہ خدا تعالیٰ نے مہدی موعود کا نشان چاند اور سورج کے خسوف کسوف کو جو رمضان میں ہوا کیوں ٹھہرایا۔ اس میں کیا بھید ہے۔ سو جانا چاہیئے کہ خدا تعالیٰ کے علم میں تھا کہ علماء اسلام مہدی کی تکفیر کریں گے ۔ اور کفر کے فتوے لکھیں گے چنانچہ یہ پیشگوئی آثار اور احادیث میں موجود ہے کہ ضرور ہے کہ مہدی موعود اپنی قبولیت کے وقت سے پہلے علماء زمانہ کی طرف سے اپنی نسبت کفر کے فتوے سنے اور اس کو کافر اور بے ایمان کہیں اور اگر ممکن ہو تو اس کے قتل کرنے کی تدبیر کریں۔ سو چونکہ علماء امت اور فقراء ملت زمین کے آفتاب اور ماہتاب کی طرح ہوتے ہیں اور انہیں کے ذریعہ سے دنیا کی تاریکی دور ہوتی ہے۔ اس لئے خدا تعالی نے آسمان کے اجرام چاند اور سورج کی تاریکی کو علماء اور فقراء کے دلوں کی تاریکی پر دلیل ٹھہرائی ۔ گویا پہلے کسوف خسوف زمین کے چاند اور سورج پر ہوا کہ علماء اور فقراء کے دل تاریک ہو گئے اور پھر اسی تنبیہ کے لئے آسمان پر خسوف کسوف ہوا۔ تا معلوم ہو کہ وہ بلا جس نے علماء اور فقراء کے دلوں پر نازل ہو کر خسوف کسوف کی حالت میں ان کو کر دیا آسمان نے اس کی گواہی دی۔ کیونکہ آسمان زمین کے اعمال پر گواہی دیتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی شق قمر کی یہی حکمت تھی کہ جن کو پہلی کتابوں کے علم کا نور ملا تھا وہ لوگ اس نور پر قائم نہ رہے اور ان کی دیانت اور امانت ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی ۔ سواس وقت بھی آسمان کے شق القمر نے ظاہر کر دیا کہ زمین میں جو لوگ نور کے وارث تھے انہوں نے تاریکی سے پیار کیا ہے اور اس جگہ یہ بات قابل افسوس ہے کہ مدت ہوئی کہ آسمان کا خسوف کسوف جو رمضان میں ہوا وہ جاتا رہا اور چاند اور سورج دونوں صاف اور روشن ہو گئے مگر ہمارے وہ علماء اور فقراء جو شمس العلماء اور بدر العرفاء کہلاتے ہیں وہ آج تک اپنے کسوف خسوف میں گرفتار ہیں اور رمضان میں کسوف خسوف ہونا یہ اس بات کی طرف