انجام آتھم — Page 293
۲۹۳ روحانی خزائن جلد ۱۱ ضمیمه رساله انجام آتھم میں لکھوں اور ایک کوئی اور مخالف لکھے تو وہ نہایت ذلیل ہوگا اور مقابلہ نہیں کر سکے گا۔ اور یہی وجہ ہے کہ با وجود اصرار کے مولویوں نے اس طرف رخ نہیں کیا۔ پس یہ ایک عظیم الشان نشان ہے مگر ان کے لئے جو انصاف اور ایمان رکھتے ہیں۔ اور ایک نشان خدا کے نشانوں میں سے یہ ہے کہ میرے دعوی سے تین برس پہلے ایک بندہ صالح نے میری نسبت پیشگوئی کی اور اس پیشگوئی میں میرا نام اور میرے گاؤں کا نام لے کر کہا کہ وہ شخص مسیح موعود ہونے کا دعوی کرے گا اور وہ اپنے دعوئی میں سچا ہو گا اور مولوی لوگ جہالت اور حماقت سے اس کا انکار کریں گے چنانچہ اس نے اس تمام پیشگوئی سے کریم بخش نامی ایک نیک بخت مسلمان کو جولو د یا نہ کے قریب ایک گاؤں میں رہنے والا تھا اطلاع دی اور کہا کہ وہ مسیح موعود لدھیانہ میں آئے گا اور نصیحت کی کہ مولویوں کے شور کی کچھ پروا نہ کرنا کہ مولوی اس مخالفت میں جھوٹے ہوں گے ۔ چنانچہ جب میں اس دعوی کے بعد لدھیانہ میں گیا تو کریم بخش میرے پاس آیا اور صدہا لوگوں کے رو بر و بار بار یہ گواہی دی۔ چنانچہ اُس کی طرف سے ایک رسالہ بھی شائع ہو چکا۔ سو یہ بھی ایک نشان الہی ہے ۔ اور منجملہ نشانوں کے ایک نشان خسوف و کسوف رمضان میں ہے۔ کیونکہ دارقطنی میں صاف لکھا ہے کہ مہدی موعود کی تصدیق کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک نشان ہوگا کہ رمضان میں چاند کو زانی لکھا ہے اور اس کے علاوہ اور بہت گالیاں دی ہیں ۔ پس اسی طرح اس مردار اور خبیث فرقہ نے جو مردہ پرست ہے ہمیں اس بات کے لئے مجبور کر دیا ہے کہ ہم بھی ان کے یسوع کے کسی قدر حالات لکھیں ۔ اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالی نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر بقیه حاشیه نہیں دی کہ وہ کون تھا۔ اور پادری اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع وہ شخص تھا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور حضرت موسیٰ کا نام ڈاکو اور بٹما ر رکھا۔ اور آنے والے مقدس نبی کے وجود سے انکار کیا۔ اور کہا کہ میرے بعد سب جھوٹے نبی آئیں گے۔ پس ہم ایسے نا پاک خیال اور مستکبر اور راستبازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے ۔ چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں۔ نادان پادریوں کو چاہئے کہ بد زبانی اور گالیوں کا طریق چھوڑ دیں ۔ ورنہ نہ معلوم خدا کی غیرت کیا کیا ان کو دکھلائے گی۔ اور ہم اس جگہ فتح مسیح کی سفارش کرتے ہیں کہ بزرگ پادری