انجام آتھم — Page xxii
۱۔اوّل خدا تعالیٰ نے پادری رائٹ کو لیا جودراصل اپنے رتبہ اور منصب کے لحاظ سے اس جماعت کا سرگروہ تھا اور وہ عین جوانی میں ایک ناگہانی موت سے اس جہان سے گذر گیا اور خدا تعالیٰ نے اس کی بے وقت موت سے ڈاکٹر مارٹن کلارک اور ایسا ہی اس کے دوسرے تمام دوستوں اور عزیزوں اور ماتحتوں کو سخت صدمہ پہنچایا اور ماتمی کپڑے پہنا دیے اور اس کی بے وقت موت نے ان کو ایسے دکھ اور درد میں ڈالا جو ہاویہ سے کم نہ تھا۔(انوارالاسلام روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۸) پادری رائٹ صاحب کی وفات پر جو افسوس گرجا میں ظاہر کیا گیا۔اس میں عیسائیوں کی مضطربانہ اور خوف زدہ حالت کا نظارہ مفصلہ ذیل الفاظ سے آئینہ دل میں منقش ہو سکتا ہے جو اس وقت پریچر کے مرعوب اور مغضوب دل سے نکلے اور وہ یہ ہیں ’’آج رات خدا کے غضب کی لاٹھی بے وقت ہم پر چلی اور اُس کی خفیہ تلوار نے بے خبری میں ہم کو قتل کیا۔‘‘ (انوار الاسلام روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ۸حاشیہ) ۲۔پادری فورمین لاہور میں مرے۔(صفحہ ۸ح) ۳۔پادری ہاول اور پادری عبداﷲ بھی سخت بیماریوں کے ہاویہ میں گرائے گئے۔(صفحہ ۸مفہوماً) ۴۔جنڈیالہ کا ڈاکٹر یوحنا جو عیسائیوں کا ایک اعلیٰ رکن تھا جس کو عین مباحثہ میں طبع مباحثہ کا کام سپرد کیا گیا تھا میعاد مقررہ کے اندر مرا۔(انوارالاسلام صفحہ ۸،۹مفہوماً ) ۵۔پھر سب پادریوں اور خصوصاً پادری عماد الدین کو جو اپنے آپ کو مولوی کے لقب سے ملقّب کرتے تھے اور قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت پر معترض تھے سخت ذلّت پہنچی۔جب انہیں رسالہ نور الحق کے مقابلہ میں جو آ پؑ نے میعاد پیشگوئی کے اندر لکھا تھا پانچ ہزار روپیہ انعام کے وعدہ کے ساتھ رسالہ لکھنے کی دعوت دی گئی اور بالمقابل ویسا رسالہ لکھنے سے اُن کے عاجز آنے سے انہیں سخت ذلّت پہنچی اور پانچ ہزار روپیہ لینے کی بجائے ہزار لعنت اُن کے حصّہ میں آئی۔(؍؍ ؍؍ ؍؍) آتھم کے رجوع بحق ہونے کے قرائن نیز آپ نے فرمایا کہ الہام کے علاوہ بعض ایسے قرائن بھی موجود ہیں جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آتھم نے رجوع الی الحق کیا۔