انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxi of 448

انجام آتھم — Page xxi

ہے اورپیشگوئی ’’بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے‘‘ کا فقرہ بے فائدہ نہ تھا۔اِس لئے جس قدر اُس نے رجوع کیا اُس کا اُسے فائدہ پہنچ گیا۔پس فتح اسلام کی ہوئی اور عیسائیوں کو ذلّت اور ہاویہ نصیب ہوا۔اور اﷲ تعالیٰ نے آتھم کے رجوع کے متعلّق جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اطلاع د ی وہ یہ تھی:۔’’اِطَّلَعَ اللّٰہُ عَلٰی ہَمِّہٖ وَ غَمِّہٖ۔وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اﷲِ تَبْدِیْلًا وَلَاتَعْجَبُوْا وَلَاتَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنْیِنَ وَبِعِزَّتِیْ وَجَلَالِیْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی۔وَ نُمَزِّقُ الْاَعْدَآءَ کُلَّ مُمَزَّقٍ۔وَ مَکْرُ اُوْلٰءِکَ ھُوَ یَبُوْرُ۔اِنَّا نَکْشِفُ السِّرَّ عَنْ سَاقِہٖ یَوْمَءِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ۔‘‘ (انوار الاسلام روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۲) ’’ترجمہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس (آتھم۔ناقل) کے ہمّ و غم پر اطلاع پائی اور اُس کو مہلت دی جب تک کہ وہ بے باکی اور سخت گوئی اور تکذیب کی طرف میل کرے اور خدا تعالیٰ کے احسان کو بھلا دے۔۔۔۔۔۔۔اورپھر فرمایاکہ خدا تعالیٰ کی یہی سنّت ہے۔۔۔عادت اﷲ اسی طرح پر جاری ہے۔۔۔اگر دل کے کسی گوشہ میں بھی کچھ خوف الٰہی مخفی ہو اور کچھ دھڑکا شروع ہو جائے تو عذابِ الٰہی نازل نہیں ہوتا۔‘‘ اور جماعت کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔’’تعجب مت کرو اور غمناک مت ہو اور غلبہ تُمہیں کو ہے۔اگر تم ایمان پر قائم رہو۔۔۔مجھے میری عزّت اور جلال کی قسم ہے کہ تُو ہی غالب ہے۔۔۔ہم دشمنوں کو پارہ پارہ کر دیں گے یعنی اُن کو ذلّت پہنچے گی اور اُن کا مکر ہلاک ہو جائے گا۔۔۔اور خدا تعالیٰ بس نہیں کرے گا اور نہ باز آئے گا جب تک دشمنوں کے تمام مکروں کی پردہ دری نہ کرے اور اُن کے مکر کو ہلاک نہ کر دے۔۔۔۔۔۔پھر فرمایا کہ ہم اصل بھید کو اس کی پنڈلیوں میں سے ننگا کر کے دکھا دیں گے۔۔۔اُس دن مومن خوش ہوں گے۔‘‘ (انوار الاسلام روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۲،۳) نیز حضورؑ نے فرمایا :۔’’یہ تو مسٹر عبداللہ آتھم کا حال ہوا مگر اس کے باقی رفیق بھی جو فریق بحث کے لفظ میں داخل تھے اور جنگ مقدس کے مباحثہ سے تعلق رکھتے تھے خواہ وہ تعلق اعانت کا تھا یا بانی کار ہونے کا یا مجوز بحث یا حامی ہونے کا یا سرگروہ ہونے کا ان میں سے کوئی بھی اثر ہاویہ سے خالی نہ رہا‘‘۔(انوار الاسلام روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۸) مثلاً:۔