رسالہ الوصیت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 335 of 597

رسالہ الوصیت — Page 335

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۳۱ رساله الوصیت یہ ہدایات وصیت کی فارم کے نیچے چھپوائی جاویں۔ الف۔ اگر ضرورت ہو تو وصیت کنندگان وصیت کا مسودہ طلب کریں اور اس کی نقل سادہ کاغذ پر از سر نو کریں اور جہاں جہاں جگہ چھوڑی گئی ہے وہاں حسب حالات خود خانہ پُری کرلیں۔ وصیت کے لئے کاغذ مضبوط لگا دیں۔ ب ۔ جہاں تک ممکن ہو وصیت کی رجسٹری کرائی جائے اور وصیت نامہ پر حتی الوسع بطور گواہ ورثاء یا شرکائے وصیت کنندہ کے دستخط ہوں اور ساتھ ہی شہر یا گاؤں کے دو معزز گواہ ہوں۔ ج- وصیت کنندہ اور ایسا ہی گواہان خواه خواندہ ہوں یا نا خواندہ اپنے دستخط یا مواہیر کے علاوہ نشان انگوٹھا ضرور لگا دیں۔ اور جو خواندہ ہیں وہ دستخط بھی کریں۔ اور مرد بائیں ہاتھ کا اور عورت دائیں ہاتھ کا انگوٹھا لگا وے۔ و۔ اگر وصیت کنندہ لکھ سکتا ہے تو اپنی وصیت اپنے ہاتھ سے لکھے۔ -D 2 - وصیت پر اسٹامپ کی ضرورت نہیں۔ و۔ وصیت کنندہ کے اگر کوئی خاص حالات ہوں اور اس میں کسی قانونی مشورہ کی ضرورت ہو تو وہ ۔۔۔ جوانجمن کے مشیر قانونی ہیں خط لکھ کر دریافت کر لیں۔ (۴)۔ پنجاب میں جو مالکان اراضی ہیں اور اُن کی راہ میں وصیت کرنے میں کوئی دقتیں ہیں تو اُن کے لئے مناسب ہے کہ وہ جس قدر جائیداد کی وصیت کرنا چاہتے ہیں اسے بجائے وصیت کے اپنی زندگی میں ہبہ کر دیں۔ اور ہبہ نامہ پر اپنے ورثائے بازگشت کے (اگر کوئی ہوں ) دستخط کرائیں جن سے ایسے ورثاء کی رضامندی پائی جائے اور ہبہ نامہ کی رجسٹری ضروری ہے اور جائیداد موہوبہ کا داخل خارج مجلس معتمدین صدر انجمن احمد یہ قادیان کے نام کرائیں لیکن ایسی صورت میں انہیں نئی پیدا کردہ جائیداد کے متعلق ایسا وقتاً فوقتاً کرنا ہوگا۔ (۵)۔ اگر ہبہ مذکورہ رزولیوشن نمبر ہ میں بھی دقت ہو تو جس قدر جائیداد کی وصیت یا ہبہ کرنا چاہتے ہیں اس کی قیمت بازاری مقرر کر کے یا اس کو فروخت کر کے قیمت مقرر کردہ یا ز ریشن کو مجلس کار پرداز مصالح قبرستان کے حوالے کریں لیکن ایسی صورت میں جب وہ نئی جائیداد پیدا کریں تو اس