اَلھُدٰی — Page 286
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۸۲ الهدى وہ شغل من غير الخمر والزمر والشهوات النفسانية۔ يبذلون خزائن | فانی لذتوں کے حاصل کرنے کے لئے خزانے خرچ کر ڈالتے لاستيفاء اللذات الفانية۔ ويشربون الصهباء جهرةً على شاطى ہیں۔ اور وہ شرابیں پیتے ہیں نہروں کے کناروں اور بہتے پانیوں اور بلند (٣٩) الأنهار المصرّدة والمياه الجارية والأشجار الباسقة والأثمار درختوں اور پھل دار درختوں اور شگوفوں کے پاس اعلیٰ درجه کے فرشوں اليانعة۔ والأزهار المنوّرة۔ جالسين على الأنماط المبسوطة۔ ولا پر بیٹھ کر اور کوئی خبر نہیں کہ رعیت اور ملت پر کیا بلائیں ٹوٹ رہی ہیں۔ انہیں يعلمون ما جرى على الرعيّة والملة۔ ليس لهم معرفة امور سیاسی اور لوگوں کے مصالح کا کوئی علم نہیں اور ضبط امور اور عقل بالقانون السياسي وتدبير مصالح الناس۔ وما أعطى لهم اور قیاس سے انہیں کچھ بھی حصہ نہیں ملا۔ اور جو لوگ بچپن میں ان کے حظ من ضبط الأمور والعقل والقياس والذين يُتَخَيّرون لتأديبهم ۔ اتالیق بنائے جاتے ہیں وہی انہیں شراب اور باجوں اور پہاڑوں في عهد الصبا۔ فهم يُرغبونهم فى الخمر والزمر وعلى منادمة پر مے نوشی کی محفل آرائی کی ترغیب دیتے ہیں خصوصاً بارش اور نسیم صبا کے چلنے على الربي۔ سيما في أوقات المطر وعند هزیز نسیم کے وقت۔ اسی طرح حرمات اللہ کے نزدیک جاتے ہیں اور ان الصبا۔ كذالك يقربون حرمات الله ولا يجتنبون۔ ولا يُؤدّون بچتے نہیں۔ اور حکومت کے فرائض کو ادا نہیں کرتے اور فرائض الولاية ولا يتقون۔ ولذالك يرون هزيمة على هزيمة۔ متقی نہیں بنتے۔ یہی وجہ ہے کہ شکست پر شکست دیکھتے ہیں۔