اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 32
روحانی خزائن جلد۴ ۳۲ مباحثہ لدھیانہ ۳۰ اب جب ہم ان دونوں قسم کی حدیثوں پر نظر ڈال کر گرداب حیرت میں پڑ جاتے ہیں کہ کس حدیث کو صحیح سمجھیں اور کس کو غیر صحیح ۔ تب ہم کو عقل خدا داد یہ طریق فیصلہ کا بتاتی ہے کہ جن احادیث پر عقل اور شرع کا کچھ اعتراض نہیں انہیں صحیح سمجھنا چاہئے ۔ اور ازالة الاوهام کے صفحہ ۲۲۴ میں آپ نے مسلم کی اس حدیث کو جس میں یہ بیان ہے کہ دجال معہود کی پیشانی پر ک ف ر لکھا ہوگا جو بخاری میں بصفحہ ۱۰۵۶ مروی ہے یہ کہہ کر اڑایا ہے کہ یہ حدیث مسلم کی اس حدیث کے مخالف ہے جس میں یہ وارد ہے کہ یہ دجال مشرف باسلام ہو چکا تھا ایسا ہی آپ نے صحیحین کی ان احادیث کو اڑایا ہے جن میں دجال کے ان خوارق کا بیان ہے کہ اسکے ساتھ بہشت اور دوزخ ہونگے اور اسکے کہنے سے زمین شور سر سبز ہو جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ پھر آپ کا اس مقام میں یہ کہنا کہ میں نے تصحیحین کی کسی حدیث کو موضوع یا غیر صحیح قرار نہیں دیا اور ان احادیث کے صحیح معنے بیان کرنے میں خدا تعالیٰ میری مددکرتا ہے خلاف واقعہ نہیں تو کیا ہے؟ آپ صحیحین کی احادیث کو موضوع جانتے ہیں اور ساکت الاعتبار سمجھتے ہیں۔ پھر اس اعتقاد کو طولانی تقریروں اور ملمع سازیوں سے چھپاتے ہیں اور یہ خیال نہیں فرماتے کہ جن باتوں کو آپ چھاپ چکے ہیں وہ کب چھپتی ہیں۔ (۳) آپ لکھتے ہیں کہ قرآن کو حدیث کا معیار صحت ٹھہرانے میں امام کے نشان دہی کا بار ثبوت آپ کے ذمہ نہیں ہے اور یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہر ایک مسلمان تصحیح احادیث کا معیار قرآن کو سمجھتا ہے میں آپ کے اس دعوئی کا بھی منکر ہوں اور یہ کہہ سکتا ہوں کہ کوئی مسلمان جن کے اقوال سے استناد کیا جاتا ہے اس بات کا قائل نہیں۔ آپ کم سے کم ایک مسلمان کا علماء سلف سے نام لیں جو آپ کے خیال کا شریک ہو اور اگر باوجود ان دعاوی کے آپ پر بار ثبوت نہیں ہے تو آپ یہ امر کسی منصف سے (مسلمان ہو یا غیر مذہب ) کہلا دیں۔ اس باب میں جو آیات آپ نے نقل کی ہیں ان کو آپ کے دعاوی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کی تفصیل جواب تفصیلی میں ہوگی۔ انشاء الله تعالى (۴) اجتماع کے باب میں میرے کسی سوال کا آپ نے جواب نہیں د یا براہ مہربانی میرے دیا سوال پر نظر ثانی کریں اور ان باتوں کا جواب دیں کہ اجتماع کی تعریف جو آپ نے لکھی ہے کس کتاب میں ہے اور بعض صحابہ کے اتفاق کو کون شخص اجماع سمجھتا ہے۔ سکوت کل کا جو آپ نے دعوی کیا ہے یہ بھی محتاج نقل و ثبوت ہے آپ یہ عقل صحیح ثابت کریں کہ حضرت عمر وغیرہ نے ابن صیاد کو دجال کہا تو اس وقت جملہ اصحاب یا فلاں فلاں موجود تھے اورانہوں نے