اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 31 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 31

۲۹ روحانی خزائن جلد ۴ پر چه نمبر ۵! مولوی صاحب! مباحثہ لدھیانہ میں افسوس کرتا ہوں کہ آپ نے پھر بھی میرے سوال کا جواب صاف الفاظ میں نہیں دیا آپ نے بیان کیا ہے کہ میں آپ سے ان کتب کی صحت تسلیم کرانا چاہتا ہوں اور آپ اس تسلیم کو صحیح نہیں سمجھتے بلکہ اس کو ایک غلط اصول فرضی و خیالی اجماع پر منی قرار دیتے ہیں پھر صاف الفاظ میں کیوں نہیں کہتے کہ صحیحین کے جملہ احادیث بلا وقفہ و نظر واجب التسلیم اور صحیح نہیں ہیں بلکہ ان میں موضوع یا غیر صحیح احادیث موجود ہیں یا ان کے موجود ہونے کا احتمال ہے جب تک آپ ایسے صریح الفاظ میں اس مطلب کو ادا نہ کریں گے اس سوال کے جواب سے سبکدوش نہ ہوں گے خواہ برسوں گذر جائیں آپ حدیث ان من حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ کو پیش نظر رکھ کر خارج از سوال باتوں سے تعرض کرنا چھوڑ دیں اور دو حرفی جواب دیں کہ صحیحین کی حدیثیں سب کی سب صحیح ہیں یا موضوع ہیں یا مختلط ہیں۔ (۲) آپ فرماتے ہیں میں نے اپنی کتاب میں کسی حدیث صحیح بخاری یا مسلم کو موضوع نہیں کہا ( لفظ موضوع آپ کے کلام میں غیر صحیح کے معنوں میں استعمال ہوا ہے ) اور یہ امر کمال تعجب کا موجب ہے کہ آپ جیسے مدعیان الہام ایسی بات خلاف واقعہ کہیں ۔ آپ نے رسالہ ازالة الاوهام کے صفحہ ۲۲۰ میں مشقی حدیث کی نسبت کہا ہے۔ یہ وہ حدیث ہے جو صحیح مسلم میں امام مسلم صاحب نے لکھی ہے۔ جس کو ضعیف سمجھ کر رئيس المحدثين امام محمد اسمعیل بخاری نے چھوڑ دیا ہے۔ اب انصاف سے فرماویں کہ اس حدیث صحیح مسلم کو آپ نے ضعیف قرار دیا ہے یا نہیں اور اگر آپ یہ عذر کریں کہ میں صرف ناقل ہوں اس کو ضعیف کہنے والے امام بخاری ہیں تو آپ تصحیح نقل کریں اور صاف فرماویں کہ امام بخاری نے اس کو فلاں کتاب میں ضعیف قرار دیا ہے یا کسی اور امام محدث سے نقل کریں کہ انہوں نے امام بخاری سے اس حدیث کی تضعیف نقل کی ہے ورنہ آپ اس الزام سے بری نہ ہو سکیں گے کہ آپ نے صحیح مسلم کی حدیث کو ضعیف قرار دیا اور پھر اس اپنی تحریر میں اس سے انکار کیا ۔ ازالة الاوهام کے صفحہ ۲۲۶ میں آپ فرماتے ہیں۔ اب بڑے مشکلات یہ در پیش آتے ہیں کہ اگر ہم بخاری اور مسلم کی ان حدیثوں کو صحیح سمجھیں جو د جال کو آخری زمانہ میں اتار رہی ہیں تو یہ حدیثیں موضوع مظہرتی ہیں ۔ اور اگر ان حدیثوں کو صحیح قرار دیں تو پھر اس کا موضوع ہوناما نا پڑتا ہے اور اگر یہ متعارض و متناقض حدیثیں صحیحین میں نہ ہو تیں صرف دوسری صحیحوں میں ہوتیں تو شاید ہم ان دونوں کتابوں کی زیادہ تر پاس خاطر کر کے ان دوسری حدیثوں کو موضوع قرار دیتے مگر اب مشکل تو یہ آپڑی کہ ان ہی دونوں کتابوں میں یہ دونوں قسم کی حدیثیں موجود ہیں۔ ا نوٹ الله الله! چشم بازو گوش باز و این ذکا + خیر وام در چشم بندی خدا۔ آپ کا یہ افسوس ختم ہونے میں نہیں آ تا اور شائدموت ( یعنی اختتام مباحثہ ) تک اس افسوس سے نجات نصیب نہ ہو۔ اچھا دیکھیں۔ ایڈیٹر