اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 33
روحانی خزائن جلد ۴ ۳۳ مباحثہ لدھیانہ اس پر سکوت کیا ۔ یا وہ قول جس صحابی کو پہنچا اس نے انکار نہ کیا پہ بات صرف غالبا اور ہونگی کے اس کے الفاظ سے ثابت نہیں ہو سکتی ایسے دعاوی عظیمہ میں ائمہ نقل سے نقل بکار ہے نہ صرف تجویز عقل ۔ اجماع کے باب میں جو کچھ ائمہ سے منقول ہے وہ آپ کی تحریر میں موجود ہے پھر تعجب ہے کہ اس پر آپ کی توجہ نہ ہوئی اور صرف انکل سے آپ نے کار براری کی ۔ (۵) مضمون حدیث شرح السنہ کے متعلق آپ نے بڑے زور سے دعوی کیا تھا کہ آنحضرت نے فرمایا ہے کہ میں ابن صیاد کے دجال ہونے سے خوف کرتا ہوں اور ازالة الاوهام کے صفحہ ۲۲۴ میں آپ نے لکھا ہے کہ آنحضرت نے حضرت عمر کو فرمایا ہے کہ ہمیں اس کے حال میں ابھی اشتباہ ہے یعنی اس کے دجال ہونے کا ہم کو خوف ہے۔ ان اقوال کا آپ نے آنحضرت صلعم کو یقیناً قائل قرار دیا ہے۔اب آپ یہ کہتے ہیں کہ صحابی نے آنحضرت سے سنا ہو گا تب ہی آنحضرت کی طرف اس امر کو منسوب کیا کہ آپ ابن صیاد کے دجال ہونے سے ڈرتے تھے۔ اب انصاف کو اور صدق و دیانت کو پیش نظر رکھ کر فرمادیں کہ احتمال موجب یقین ہو سکتا ہے؟ کیا یہ امکان نہیں ہے کہ آنحضرت صلعم کے ان معاملات سے جو ابن صیاد کی نسبت بار ہا وقوع میں آئے جیسے اس کا امتحان کرنا یا چھپ کر اس کے حالات معلوم کرنا وغیرہ وغیرہ جن کا صحیحین میں ذکر ہے اس صحابی کو یہ خیال پیدا ہو گیا ہو کہ آنحضرت صلعم اس کو دجال سمجھتے تھے اس امکان و احتمال کے ساتھ جو حسن ظنی بحق صحابی پر مبنی ہے کیا یہ یقین ہو سکتا ہے؟ کہ اس صحابی نے آنحضرت کو وہ باتیں کہتے ہوئے سنا جو آپ نے برخلاف واقع آنحضرت کی طرف منسوب کیں اور بلا حصول یقین آنحضرت صلعم کو ان اقوال کا قائل قرار دینا اور بلا کھٹکا یہ کہہ دینا کہ آپ ایسا فرماتے تھے جائز ہے؟ اور مسلمانان سلف سے یہ امر وقوع میں آیا ہے آپ کم سے کم ایک مسلمان کا نام بتلاویں جس سے یہ جرات ہوئی ہو۔ (۶) آپ لکھتے ہیں کہ قول ابن عربی کے آپ مخالف ہوتے تو کیوں ناحق اس کا ذکر کرتے اور اس کے ذکر سے آپ کے کلام میں تناقض پیدا ہوتا ہے آپ کا یہ مفہوم میری عبارت کے صریح منطوق کے جو میں نے نقل کی ہے برخلاف ہے لہذا لائق لحاظ والتفات نہیں ہے اور وہ آپ کو الزام افترا سے بری نہیں کر سکتا اور نہ میری وہ تصریحات جو میں نے محدث کی نسبت کی ہیں آپ کو اس الزام سے بری کر سکتے ہیں میری کسی تصریح یا کلام میں قول ابن عربی کی تصدیق و تائید پائی نہیں جاتی اور میرا صریح اظہار کہ میں الہام غیر نبی کو حجت نہیں سمجھتا کتاب وسنت کا پیرو ہوں نہ کسی الہامی کشفی کا مقلد ۔ صاف شاہد ہے کہ آپ نے مجھ پر افترا کیا ہے۔ رہا الزام تعارض واظہار خلاف عقیدت سو اس کا جواب اسی صفحہ اشاعۃ السنہ میں موجود ہے کہ میں نے ان اقوال ابن عربی وغیرہ کو اس غرض سے نقل کیا ہے کہ الہام کو حجت ماننے میں صاحب براہین منفرد نہیں ہے اور یہ مسئلہ ایسا نیا اور انوکھا نہیں جس کا کوئی قائل نہ ہو جس سے