اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 260
روحانی خزائن جلدم ۲۶۰ الحق مباحثه دیلی (۱۳۰) عن ابليس قَالَ رَبِّ فَأَنْظُرْنِى إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ إلى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِ يَنْهُمْ أَجْمَعِينَ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ قَالَ فَالْحَقِّ وَالْحَقِّ أَقُولُ لَا مُلَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ - مولانا صاحب صيغه لاغوينهم اجمعین میں آپ کا نون ثقیلہ بھی موجود ہے اور قرائن الى يوم يبعثون اور الى يوم الوقت المعلوم وغیرہ بھی موجود ہیں جن کی وجہ سے یہاں پر خالص زمانہ استقبال مراد ہے۔ الحاصل خلاف مشیت الہیہ ایسا زمانہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ جس میں سب لوگ ہدایت پر ہو جاویں اور کوئی گمراہ و کا فربسیط الارض پر موجود نہ رہے پس میری دانست ناقص میں ایسا کچھ فرمانا آپ کے شان سے نہایت مستبعد ہے نہ حضرت مرزا صاحب کا فرمانا۔ انصاف کو ہاتھ سے نہ دیجئے ۔ مثل مشہور ہے الانصاف احسن الاوصاف قوله دلیل دوسری الخ ۔ اقول مولا نا اول تو یہ گذارش ہے کہ کھل کے معنے میں کسی لغت کی کتاب میں دو ہزار برس کا یا زیادہ کا زمانہ بھی لکھا ہے یا نہیں اگر کسی کتاب میں لکھا ہو تو نقل فرمایا جاوے اور اگر کہیں نہیں لکھا تو پھر دو ہزار برس یا زیادہ کا زمانہ اس کے مفہوم میں کیونکر معتبر ہو سکتا ہے۔ ثانیا جس قدر کتب تفاسیر کی عبارات سے جناب نے استدلال کیا ہے کسی تفسیر میں رفع قبل التكهل بجسده العنصري على السماء کا ثبوت کسی آیت یا حدیث صحیح مرفوع متصل سے نہیں دیا پھر جب تک کہ رفع کذائی قبل التكهل دليل قطعی سے ثابت نہ ہوئے تو دلیل آپکی مستلزم مدعی کو کیونکر ہوسکتی ہے۔ فتح البیان میں لکھا ہے۔واورد على هذا عبارة المواهب مع شرحها للزرقاني وانما يكون الوصف بالنبوة بعد بلوغ الموصوف بها اربعين سنة اذهو سن الكمال ولها تبعث الرسل ومفاد هذا الحصر الشامل لجميع الانبياء حتى يحي وعيسى هو الصحيح ففى زاد المعاد للحافظ ابن القيم ۔ ۔۔ ما يذكر ان عيسى رفع وهو ابن ثلث وثلثين سنة لا يعرف به اثر متصـل يـجـب الـمصير اليه۔ قال الشامى وهو كما قال فان ذلك انمایروی عن النصارى و المصرح به في الاحاديث النبوية انه انما رفع وهو ابن مائة وعشرين سنة ثم قال الزرقاني وقع للحافظ الجلال السيوطي في تكملة تفسير المحلى وشرح النقاية وغيرهما من كتبه الجزم بان عيسى رفع وهو ابن ثلث و ثلثين سنة و يمكث ص : ۸۰ تا ۸۶