اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 261
۲۶۱ الحق مباحثه دیلی روحانی خزائن جلده بعد نزوله سبـع سـنـيــن ومازلت أتعجب منه مع مزيد حفظه واتقانه وجمعه ۱۳۱ للمعقول والمنقول حتى رأيته فى مرقاه الصعود رجع عن ذلک انتهى اور حسین ابن الفضل سے جو یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ وفـي هـذه الأيـة نـص فــي انه عليه الصلوة والسلام سينزل الى الارض - اگر نص سے مراد وہی نص ہے جو مصطلح اہل اصول ہے تو آپ ہی فرماویں کہ کلام فی الکہولت واسطے نزول من السماء بجسده العنصرى کے کیونکر نص ہو گیا۔ اور اگر نص سے کچھ اور مراد ہے تو بیان ہو اس میں نظر کی جاوے گی۔ اور پھر یہ گذارش ہے کہ جناب والا نے آغاز پر چہ اول میں یہ اقرار و عہد کیا ہے کہ اس مباحثہ میں بحث صعود ونزول وغیرہ کا خلط نہ کیا جاویگا۔ پھر یہاں پر اس اقرار وعہد کا نقض آپکی جانب سے کیوں ہوا۔ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا لے ثالثا کیا ایسی پیشین گوئیوں کی حقیقت کــمــا ینبغی ایسے ہی اجتہادات اور اقوال علماء سے قبل از وقوع محقق طور پر اور قطعی ویقینی معلوم ہوسکتی ہے۔ جیسے اقوال کہ جناب نے اس دلیل دوم میں بیان فرمائے ہیں۔ نہیں نہیں مجھ کو خوب یاد آیا مولا نا صاحب تو خود اس دلیل دوم کی نسبت فرما چکے ہیں کہ یہ دلیل فی نفسم قطعية الدلالت حیات مسیح پر نہیں ہے۔ ہاں البتہ یہاں پر ایک استفسار باقی رہا وہ یہ ہے کہ جناب والا یہ بھی فرماتے ہیں کہ ( مگر با نضمام آیہ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْ مِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ لے کے قطعية الدلالت ہو جاتی ہے ) اب استفسار یہ ہے کہ اصول حدیث کے رُو سے صحیح لذاتہ و صحيح لغيره ياحسن لذاته و حسن لغيره - تو بالضرور ایک اصطلاح مقررہ اصول حدیث کی ہے ۔ شائد اسی بناء پر جناب ۔ نے قطعی الدلالت کی دوقسمیں ارشاد فرمائیں اول قطعية الدلالت في نفسه - دوم قطعية الدلالت لغيره - یہ اصطلاح یا علم مناظرہ کی ہوگی یا شائد علم اصول فقہ کی ہو۔ لہذا گذارش ہے کہ جس کتاب علم مناظرہ یا اصول فقہ میں دلیل کی یہ دونوں قسمیں لکھی ہوں یہ صیح نقل ارشاد فرمائی جاویں۔ کیونکہ مہیچمدان کو یہ اصطلاح نہیں معلوم ۔ نظا ر نے تو تعریف دلیل کی دیکھی ہے۔والدليل هو المركب من قضيتين للتأدى الى مجهول نظری ۔ اور بعض نے لکھی ہے مـا يـلــم مـن العلم به العلم بشيء أخر يا ما يلزم من التصديق بشيء أخر بطريق الاكتساب ۔ رشیدیہ میں لکھا ہے فان حمل ذلك التعريف على تعريف الدليل القطعي البين الانتاج بنی اسرائیل : ۳۵ النساء : ١٦٠