اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 259
۲۵۹ روحانی خزائن جلدم الحق مباحثہ دہلی سی قول ابو مالک کا کیوں نقل فرمایا ہے قال ابو مالک فی قوله إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ (۱۲۹) قال ذلك عند نزول عیسی بن مریم علیه السلام لا يبقى احد من اهل الكتب الا امن بہ اور پھر اس پر علاوہ یہ ایک لطیفہ اور ہے کہ قول حسن کا بھی واسطے استدلال اپنے مدعا کے نقل فرمایا ہے وقال الحسن البصری یعنی النجاشی و اصحابه ۔ بھلا کہاں نجاشی اور کہاں اس کے اصحاب اور کہاں نزول عیسیٰ بن مریم اور کجا وہ اہل کتاب جو عند نزول عیسے بن مریم ایمان لاویں گے۔ بہ میں تفاوت رہ از کجاست تا یکجا ۔ اور پھر یہ قول بھی نقل فرمایا گیا ہے۔ وقال الضحاک عن ابن عباس وان من اهل الكتب الا ليؤمنن به قبل موته يعنى اليهود خاصة ـ یہ کیسا تناقض اور اختلاف ہے۔ صدق اللہ تعالی وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرات اور پھر باب اعتقادیات میں بطور امکان کے یہ فرمانا آپ کا (پس ہو سکتا ہے کہ جن کفار کا علم الہی میں مسیح کے دم سے کفر کی حالت میں مرنا مقدر ہو ان کے مرنے کے بعد سب اہل کتاب ایمان لے آویں ) کیسا اپنے محل اور موقع پر ہے باب عقائد میں ایسے ہی ادلہ قطعیۃ الدلالت ہونے چاہئیں اور پھر جبکہ ایمان سے مراد ایمان شرعی نہ ہوا بلکہ مراد اُس سے یقین ہوا تو کہاں گیا وہ مدعی کہ بعد نزول اور قبل موت عیسیٰ بن مریم کے ایک زمانہ ایسا آوریگا کہ سب اہل کتاب اسلام میں داخل ہو جاوینگے۔ مولانا وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْ لَهَا مِنْ بَعْدِقُوَّةٍ أَنْكَاثًا " قوله اعتراض سوم کا جواب بھی انہیں وجہوں سے ہے الخ ۔ اقول ان دونوں وجہوں کا غیر موجود ہونا معلوم ہو چکا کوئی اور وجہ نون خفیفہ وغیرہ کی بیان فرمائی جاوے قولہ یہ اعتراض جناب مرزا صاحب کی شان سے نہایت مستبعد ہے۔ الی آخر العبارة ـ اقول مولانا وہ کونسا زمانہ ہو چکا ہے جسمیں کوئی کافر نہ تھا۔ اگر فرماؤ حضرت آدم کے اوائل وقت میں تو گزارش یہ ہے کہ حضرت ابلیس علیه اللعن سب سے بڑے کا فر موجود تھے۔اور بعد ہونے اولا د کے قابیل و ہابیل کا قصہ خود قرآن مجید میں موجود ہے اور اگر کہو کہ قبل حضرت آدم کے ۔ تو گزارش یہ ہے کہ اس زمانہ سے بحث ہی کب ہے اور اگر خواہ مخواہ آپ اس زمانہ کو ہی مصداق اس کا قرار دیویں اور فرماویں گل ملائکہ مومنین ہی تھے۔ تو ہم کہیں گے کہ جنات کفار بھی موجود تھے پھر وہ کونسا زمانہ تھا جس میں کوئی کا فر موجود نہ تھا ۔ قال الله تعالى حكايتا النساء : ١٦٠ النساء :٨٣ النحل : ٩٣