اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 258 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 258

۲۵۸ روحانی خزائن جلد۴ الحق مباحثہ دہلی بلکہ تحریض کبھی ہے۔ جو بیضاوی وغیرہ میں لکھی ہے اسی تفسیر کے موافق معنے آیت کے صاحب القول الجمیل نے لکھے ہیں ۔ پس یہ اعتراض جناب کا صاحب القول الجمیل سلمہ پر اپنے موقع پر نہیں ہے۔ اور یہ بات تو ثابت ہو چکی کہ خالص استقبال کا مراد ہونا اس مقام پر کچھ ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ زمانہ حال کا مراد ہونا بھی یہاں پر ضروری ہے۔ قولہ اُن میں سے ہیں ابو ہريره الى قوله۔ و هذا القول هو الحق كما سنبينه بعد بالدليل القاطع انشاء اللہ تعالی ۔ اقول اِس قول میں جسقدر تابعین وغیرہ کا اس طرف جانا مولوی صاحب نے ذکر فر مایا کوئی قول انکا ایسا نقل نہیں کیا جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ جس طرح مولوی صاحب اس آیہ کو قطعی الدلالت فرماتے ہیں اسی طرح یہ جماعت بھی اس آیہ کو قطعی الدلالت کہتی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تو خود بطور شک کے جس پر حرف ان دلالت کرتا ہے یہ فہیم اپنا مشکوک قرار دیتے ہیں پھر اور کسی تابعی وغیرہ کا ذکر ہی کیا ہے۔ پس تقریب مولوی صاحب کی محض نا تمام ہے۔ اور مستلزم مدعا کو نہیں اور پھر اس پر مولوی صاحب کا یہ فرمانا کہ ایک جماعت کثیر سلف میں سے اسی طرف گئی ہے کیسا اپنے محل اور موقعہ پر ہے ناظرین ذرا ملاحظہ فرماویں۔ اور صاحب تفسیر ابن کثیر جو فرماتے ہیں ۔ کہ و هذا القول هو الحق الخ _ تو ان سے مطالبہ دلیل قاطع کا ہے۔ وہ دلیل قاطع بیان فرمائی جائے۔ نون ثقیلہ کی دلیل تو بہت ہی خفیفہ ہوگئی۔ قوله اول یہ کہ آیت میں نون تاکید تقیلہ موجود ہے الی قوله غیر متصور ہے۔ اقول مقدمہ نون ثقیلہ کا بسبب لام تاکید مفتوحہ کے بالکل خفیفہ ہو گیا اور ایسی تقسیم کہ (جو اہل کتاب قبل چڑھائے جانے مسیح کے صلیب پر دنیا میں موجود تھے ۔ آیت ليؤمنن بہ ان کو بھی شامل ہو ) کچھ ضروری نہیں۔ سباق آیہ میں اہل کتاب موجودین قبل واقع صلیب کے کب مراد ہیں جو یہاں پر بھی وہ مراد ہوں ۔ دیکھو سب جملوں ماسبق آیت کو وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ و غير ذلك من الجمل ۔ قولہ اور ایسا ہی آپ کے دوسرے معنے بھی باطل ہوئے جاتے ہیں الخ ۔ اقول جبکہ مقدمہ نون ثقیلہ کا بسبب موجود ہونے لام تاکید مفتوحہ کے بالکل خفیفہ ہو گیا تو اب یہ معنے کیونکر باطل ہو سکتے ہیں اور اگر اور وجوہ اُسکے ابطال کی آپ کے نزدیک موجود ہوں بیان فرمائی جاویں۔ انشاء اللہ تعالیٰ ان میں نظر کی جاوے گی ۔ قولہ جواب اعتراض دوم بد و وجہ ہے اول یہ کہ الی قولہ بلکہ یقین مراد ہے۔ اقول جبکہ آیت میں کہیں تصریح اس امر کی نہیں تھی کہ مسیح کے آتے ہی سب اہل کتاب مسیح پر ایمان لے آویں گے تو جناب نے واسطے اثبات اپنے دعوے کے ا النساء : ۱۵۸