اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 257 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 257

۲۵۷ الحق مباحثہ دہلی روحانی خزائن جلدم وجه لان يراد به فريق من اهل الكتـب يـوجـدون حين نزول عيسى عليه ۱۲۷ السلام وقال الزجاج هذا القول بعيد لعموم قوله تعالى وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ والذين يبقون يومئذ يعني عند نزوله شرذمة قليلة منهم كذا في فتح البيان اور اس میچید ان کے بیان سے بحوالہ مطول و هوامش وغیرہ اُس کے کے دوام تجد دی اور حال و استقبال کا مراد ہونا بحسب مقامات مناسبہ ثابت ہو چکا۔ پس اب مولوی صاحب کو لازم ہے کہ به تقاضائے القاو خشیة الھیہ کے حسب اقرار خود اس اپنے مقد مہ کو غیر صیح تسلیم فرماویں قال اور حاصل ترجمہ یہ ہے۔ اقول حضرت اقدس مرزا صاحب آیات بینات سے یہ امر بخوبی ثابت فرما چکے کہ ایسا زمانہ قیامت تک کبھی نہیں آسکتا کہ بسیط الارض پر کوئی فرقہ کفرہ فجرہ کا باقی نہ ر ہے۔ ہاں البتہ غلبہ اور ظہور اہل اسلام کا کبھی جسمانی طور پر اور کبھی روحانی طور پر اور کبھی براہین احمدیہ کے رُو سے بالضرور ہو گا ۔ خود آیت هُوَ الَّذِی اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِم جو مفسرین نے زمانہ مسیح بن مریم کے واسطے لکھی ہے یہی مضمون بآواز بلند ندا کر رہی ہے اور جمیع ما فی الارض کی ہدایت تو مشیت الہیہ کے محض خلاف ہے۔ قال الله تعالى وَلَوْ شِئْنَا لَا تَيْنَا كُل نَفْسٍ هُدْهَا وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنْى لَا مَلَكنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " ايضا قال تعالى وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ وَ لِذلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَا مُلَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِيْنَ " و غير ذلك من الأيات الكثيرة المصرحة بذالک۔ قوله تو اس معنے کے غلط ہونے کی یہ وجہ ہے کہ صاحب القول الجمیل سلمہ اس مقام پر غلط فاحش کا مصدر ہوا ہے الی قولہ اس لئے یہ معنی غلط ہے۔ اقول مولا نا صرف صاحب قول الجمیل سلمہ نے ہی اس جملہ کو جملہ انشائیہ نہیں قرار دیا بلکہ جملہ نوبین ایسے جملہ کو جو مصدر بقسم ہو خواہ وہ قسم مقدر ہو یا ملفوظ جملہ انشائیہ کہتے ہیں اور حصر جملہ انشائیہ کا صرف صیغہ امر میں یہ جناب والا کا ہی ایجاد ہے۔ جملہ انشائیہ کی اقسام تو سوا امر کے اور بہت ہیں جو ہر ایک کتاب صغیر و کبیر نحو میں مذکور ہیں ۔ اس مسئلہ کو نحو میر خوان اطفال بھی جانتے ہیں۔ صاحب القول الجمیل سلّمہ نے لیؤمنن کو ہرگز ہرگز صیغہ امر کا نہیں سمجھا النساء: ۱۶۰ التوبة: ٣٣ السجدة : ۱۴ هود : ۱۱۹-۱۲۰