اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 253 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 253

۲۵۳ روحانی خزائن جلدم الحق مباحثہ دہلی کہ جسکے سبب سے زمانہ حال مراد نہیں ہو سکتا کہ وہ لفظ یوم القیامۃ کا ہے مگر مولانا شاہ ولی اللہ صاحب ۱۲۳ نے ترجمہ اسکا بلفظ مضارع کیا ہے۔ والبتہ بیاں کند برائے شما روز قیامت آنچه دراں اختلاف مے نمودید ۔ شاید حضرت شاہ ولی اللہ صاحب نے ترجمہ بلفظ مضارع اسواسطے کیا ہے کہ مــن مــات فقد قامت قيامته ، حدیث صحیح ہے پس یہ بیان بطور استمرار کے ہمیشہ جاری ہے قیامت تک یعنی حشر اجساد تک۔ آیت وَلَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ میں دونوں زمانے حال و استقبال مراد ہو سکتے ہیں۔ کوئی محذور لازم نہیں آتا۔ شاہ عبد القادر صاحب نے ترجمہ آیت کا بر عایت زمانہ حال کیا ہے۔ یعنے اور تم سے پوچھ ہوتی ہے جو کام تم کرتے تھے۔ یہاں تک جس قدر آیتیں مولوی صاحب نے لکھیں وہ سب مناقض اور منافی دعوے مولوی صاحب کے ہیں اور موید حضرت اقدس مرزا صاحب کے وَلَنِعْمَ مَا قِيْلَ عدو شود سبب خیر گر خدا خواهد خمیر مایه دوکان شیشه گرسنگ است اس مقام پر میچید ان کو وہ مثل یاد آئی جس کو اللہ تبارک و تعالی نے اسی آیت کے رکوع میں بیان فرمایا ہے قال الله تعالى - وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْ بَعْدِقُوَّةٍ انكان آيت فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيوةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ = میں حال و استقبال بلکہ استمرار مراد ہے کوئی محذور لازم نہیں آتا ۔ اور شاہ ولی اللہ صاحب نے بھی ترجمہ اسکا بلفظ مضارع کیا ہے۔ ہر آئینہ زندہ سیمش بزندگانی پاک و بدهیم آنجماعه را مزد ایشاں ۔ اور شاہ عبد القادر صاحب فائدہ میں لکھتے ہیں اچھی زندگی قیامت کو جلا دینگے یا دنیا میں اللہ کی محبت اور لذت میں ۔ آیت وَقَضَيْنَا إِلَى بَنِي إِسْرَاءِيْلَ فِي الْكِتُبِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيرًات 1 میں اگر زمانہ استقبال ہی مراد ہے تو حضرت مرزا صاحب کو کچھ مضر نہیں کیونکہ حضرت اقدس اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ کسی جگہ ان صبح میں خالص زمانہ استقبال مراد نہیں ہو سکتا بلکہ وہ تو یہ فرماتے ہیں کہ بحسب مقامات ایسے صیح میں کہیں تو دوام تجددی مراد ہوتا ہے جیسا کہ حواشی مطول سے صیغہ مستقبل کا ہونا دوام تجددی کے واسطے نقل ہو چکا اور کہیں حال و استقبال مراد ہوتا ہے اور کہیں خالص استقبال چونکہ یہاں پر سیاق آیہ میں چند قرائن صارفہ عن ارادة الحال موجود ہیں اسواسطے حال مراد نہیں خالص استقبال مراد ہے۔ لیکن مولوی صاحب کا استقبال تو یہاں پر بھی موجود نہیں کیونکہ نزول آیت سے النحل : ۹۴ النحل :٩٣ النحل: ٩٨ ک بنی اسرائیل : ۵