اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 252
روحانی خزائن جلدم ۲۵۲ الحق مباحثہ دہلی (۱۲) اور جمع ہوتے جاتے ہیں اور یہ جع قیامت تک رہے گا۔ قیامت اسکی انتہا ہے کیونکہ السی انتہا کے واسطے آتا ہے آیت فَلَنَسْتَلَنَ الَّذِينَ میں صیغہ فلنسئلن مضارع ہو سکتا ہے کیونکہ لام تاکید معہ نون تاکید کے اُس میں موجود ہے اور دوام تجددی بھی مراد ہوسکتا ہے۔ شروع سوال وقت موت سے ہی برزخ میں بھی ہوتا ہے اور حشر و نشر اجساد میں بھی رہے گا تا دخول جنت یا نار۔ شاہ عبد القادر صاحب ترجمہ اسکا زمانہ حال کے ساتھ فرماتے ہیں سو ہم کو پوچھنا ہے اُن سے جن پاس رسول بھیجے تھے اور ہم کو پو چھنا ہے رسولوں سے۔ آیت لَا قَطِعَنَ أَيْدِيَكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ میں حال و استقبال دونوں مراد ہو سکتے ہیں۔ شاہ ولی اللہ صاحب نے ترجمہ بلفظ مضارع کیا ہے۔ البتہ ببرم دستہائے شمار او پا ہائے شمارا - آیت وَاذْ تَأَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ إِلى يَوْمِ القِيةِ ت میں بھی دونوں زمانے مراد ہو سکتے ہیں اور کوئی محذور لازم نہیں آتا۔ کیونکہ وقت نزول آسیہ سے یعنی حضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے وقت سے یہود پر عذاب نازل ہونا شروع ہو گیا اور یہ عذاب اُن پر قیامت تک نازل رہے گا۔ اسی واسطے ترجمہ اس آیہ کا حضرت شاہ ولی اللہ صاحب نے بلفظ مضارع کیا ہے ۔ ویادگن چوں آگاہ گردانید پروردگار تو که البته بفرستند بر ایشاں تا روز قیامت۔ آیت وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا اذَيْتُمُونَا - میں حال و استقبال دونوں مراد ہیں کیونکہ اس کے کیا معنے کہ کفار پیغمبروں کو اذیت تو دے چکے یا دیتے ہیں اور اُن پیغمبروں نے ابھی تک صبر نہیں کیا کسی آئندہ زمانہ میں صبر کریں گے اور زمانہ حال میں بے صبر ہیں إِنَّ هَذَا لَشَيْءٍ عُجَابٌ آیت وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِ جَنَّكُمْ مِنْ اَرْضِنَا الآية میں بھی حال و استقبال دونوں مراد ہو سکتے ہیں۔ کوئی محذور لازم نہیں آتا۔ خصوصاً جبکہ لحاظ کی جاوے تعریف زمانہ حال کی جو او پر گزرچکی کہ زمانہ حال ایک امر عرفی ہے اور اُسکی مقدار بلحاظ افعال کے مختلف ہے اور وہ مفوض الی العرف ہے۔ آیت وَلَيُبَيِّنَنَّ لَكُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ مَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ میں تسلیم کیا که صرف زمانہ استقبال مراد ہے مگر ہم کو یہ کچھ مضر نہیں ۔ ہم یہ کب کہتے ہیں کہ ایسے صیغ میں زمانہ حال ضرور بالضرور مراد ہی ہوتا ہے اور آیت مذکورہ میں ایک صارف بھی موجود ہے۔ ۳-۲-۱- الاعراف: ۱۲۵۷ ۱۲۸ ۲ ابراهیم : ۱۳ ۵ ابراهيم : ۱۴ ك النحل : ۹۳