اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 236
۲۳۶ الحق مباحثه دیلی روحانی خزائن جلدم ١٠٦ المضارع۔ قد يقصد بالمضارع الاستمرار على سبيل التجدد و التقضى بحسب المقامات و وجه المناسبة ان الزمان المستقبل مستمر يتجدد شيئًا فشيئًا فناسب ان يراد بالفعل الدال عليه معنى يتجدّد على نحوه بخلاف الماضى لانقطاعه و الحال لسرعة زواله ۔۔۔۔ الى آخر العبارة۔ حاصل مطلب اس کا یہ ہے کہ تقدیم مسند الیہ کی کبھی دلالت کرتی ہے اس بات پر کہ مسند الیہ مسند کے ساتھ بطور استمرار کے متصف ہے اور وہاں پر صرف یہی مطلوب نہیں ہوتا کہ مسند کے صادر ہونے کی مندالیہ سے خبر دی جاوے جیسا کہ زاہد شراب پیتا ہے اور طرب و خوشی کرتا ہے۔ السید السند فرماتے ہیں کہ مضارع سے استمرار کا قصد علی سبیل التجدد اور تقصی کے بحسب مقامات کے قصد کیا جاتا ہے اور صیغہ مضارع کا جو واسطے دلالت کرنے کے اوپر استمرار کے خاص کیا گیا اور ماضی و حال کو استمرار کے واسطے مقرر نہ کیا اس کی یہ وجہ ہے کہ زمانہ مستقبل ایک ایسی شے مستمر ہے جو چیزے چیزے مسجد دہوتی رہتی ہے۔ پس جو فعل کہ اس زمانہ متجدد پر دلالت کرے اسی کو دوام تجددی کے واسطے مقر ر رکھا گیا اور یہی مناسب تھا۔ بخلاف ماضی کے کہ وہ منقطع ہو چکا اور حال سریع الزوال ہے۔ السید السند دوسری جگہ ہوامش مطول میں لکھتے ہیں وقد يقصد في المضارع الدوام التجددى وقد سبق تحقيقه ۔ دوسری جگہ مطول میں لکھا ہے۔ کما في قوله تعالى اللهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ بعد قوله تعالى إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُونَ " حيث لم يقل الله مستهزئ بـهـم بلفظ اسم الفاعل قصداً الى حدوث الاستهزاء و تجدده وقتا بعد وقت الى قوله و هكذا كانت نكايات الله في المنافقين و بلايا النازلة بهم يتجدد وقتا فوقتا و تحدث حالا فحالا انتهى و ايضا قال كما ان المضارع المثبت يفيد استمرار الثبوت يجوز ان يفيد المنفى استمرار النفى وغير ذلك من العبارات الصريحة۔ پھر اس صیغہ مستقبل کے دوام تجددی کے واسطے مستعمل ہونے میں کسی کا خلاف بھی نہیں معلوم ہوتا ایک مسئلہ اتفاقیہ ہے۔ پس اگر حضرت مرزا صاحب نے حسب مقتضائے مقامات قرآن مجید میں مستقبل سے معنے دوام تجددی کی مراد لی تو کونسا محذور لازم آیا بینوا توجروا ! لومباحثہ ایک صفحہ میں ختم ہو گیا۔ البقرة : ۱۶ ٢ البقرة: ۱۵