اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 237 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 237

روحانی خزائن جلدم ۲۳۷ علم اسماء الرجال الحق مباحثه دیلی اس علم کی طرف مولوی صاحب نے صرف اس قدر توجہ فرمائی ہے کہ رجال اسناد قراءت قبل موتهم کی توثیق و تعدیل حضرت مرزا صاحب سے دریافت فرمانے لگے مگر جو روات کہ مولوی صاحب کی روایات مندرجہ مباحثہ میں قابل تنقید واقع ہوئی ہیں ان کا کچھ بھی احوال تحریر نہ فرمایا۔ پھر حضرت مرزا صاحب سے رواۃ اسناد اس قراءت کی توثیق جو تفاسیر معتبرہ میں بحوالہ مصحف ابی بن کعب لکھی ہے یہ بعد تسلیم کر لینے اس قراءت کے مصحف ابی میں توثیق رجال کیوں دریافت فرمائی گئی۔ تِلْكَ إِذَا قِسْمَةٌ ضِيْری - علم اسماء الرجال میں کمال تو یہ ہوتا کہ جو راوی کی زبان سے نکلتا اس کی وفیات وستین ولادت اور اعمار اور سوانح عمری اور کئی اور القاب اور جملہ اسباب قادحہ خفیہ غیر خفیہ زبانی بیان فرما دئے جاتے ورنہ اب تو اکثر کتب حدیث کے حواشی پر اسماءالرجال چڑھا ہوا ہے۔ ادنیٰ طالب علم نقل کر سکتا ہے۔ مولوی صاحب کی اس میں کیا خصوصیت ہے۔ پس کوئی کمال علم اسماء الرجال میں مولوی صاحب نے یہاں پر ظاہر نہیں فرمایا شاید کسی اور وقت کے لئے رکھ چھوڑا ہو۔ علم قراءت اس علم کی طرف مولوی صاحب نے بالکل توجہ نہیں فرمائی ۔ ورنہ چند سطور میں فیصلہ ہو جاتا۔ بطور نمونہ کے تقریر اس کی مجملاً یہ ہے کہ اگر تسلیم کیا جاوے کہ قراءت مندرجہ مصحف ابی بن کعب بالکل قراءت شاذہ ہے تو قراءت مشہورہ کے لئے اس کے مبین و مفسر ہونے میں کیا کلام ہے۔ یہ مسئلہ بھی قراء وغیرہ کے نزدیک مسلم ہے ۔ اتقان وغیرہ میں لکھا ہے ۔ وقال ابو عبیدة فی فضائل القرآن المقصد من القراءة الشاذة تفسير القراءة المشهورة وتبيين معانيها الى قوله فهذه الحروف و ما شاكلها قد صارت مفسرة للقران وقد كان يروى مثل هذا ۔ عن التابعين في التفسير فيستحسن فكيف اذا روى عن كبار الصحابة ثم صار في نفس القراءة فهو اكثر من التفسير واقوى فادني ما يستنبط من هذه الحروف معرفة صحة التاویل ۔ انتھی۔ چونکہ متعلق علم قراءت کے مولوی صاحب نے کچھ بھی تحریر نہیں فرمایا لہذا زیادہ طول نہیں کیا گیا۔ النجم : ٢٣