اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 235 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 235

روحانی خزائن جلدم ۲۳۵ الحق مباحثه دیلی استدلال از روئے علم منطق مولوی صاحب نے اس مباحثہ میں علم منطق سے بھی کام نہیں لیا اور نہ شکل اول بدیہی الانتاج سے ایک دو سطر میں فیصلہ ہو جاتا مگر یادر ہے کہ میں مدعی نہیں ہوں بلکہ ناقض اور معارض ہوں۔ بطور نمونہ کے تقریر اس کی یہ ہے۔ عیسی بن مریم كان نبيامن الناس ومات الناس حتى الانبياء يعني كلهـم مـا تـوا فـعيسى بن مريم ا ـم ايضًا مات مقدمہ صغریٰ تو مسلّم ہی ہے اور مقدمہ کبری ایسا مشہور ہے کہ اطفال مکتب لفظ حتی کی مثال میں پڑھا کرتے ہیں پس وہ بھی مسلم ہے اور اگر مسلم نہ ہو تو آیت قرآن مجید موجود ہے۔ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَبِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ ب وغير ذلك من الآيات تنبیہ جامع مسجدوں میں اثناء خطب منظومہ اردو میں ائمہ مساجد پڑھا کرتے ہیں۔ ۔ آدم کہاں حوا کہاں مریم کہاں عیسی کہاں ہارون اور موسی کہاں اس بات کا ہے سب کو غم ايضاً حضرت آدم نبی نیچے زمین کے چل بسے نوح کشتی بان عالم بھی یہاں سے چل بسے یوسف و یعقوب و اسماعیل و اسحاق وخلیل اور سلیمان آسمانی مہر والے چل بسے ہوڈ اور ادریس و یونس شیط و ایوب و شعیب دعوت اسلام کر کے ٹھہرے چندے چل بسے حضرت عیسی نبی داؤد و موسی خاک میں لے کے توریت و زبور انجیل حق سے چل بسے واسطے جن کے زمین و آسمان پیدا ہوا جنت الفردوس میں وہ حق کے پیارے چل بسے الى آخر ما قال ۔ استدلال از روئے علم بلاغت اس علم کی طرف بھی مولوی صاحب نے رخ تک نہیں کیا ورنہ بہت آسانی سے فیصلہ ہوسکتا تھا مطول اور اس کے حواشی میں لکھا ہے و تقديم المسند اليه للدلالة على ان المطلوب انماهو اتصاف المسند اليه بالمسند على الاستمرار لامجرد الاخبار بصدوره عنه كقولك الزاهد يشرب ويعزب دلالة على انه يصدر الفعل عنه حالة فحالة على سبيل الاستمرار قال السيد السند على قول العلامة۔ انما يدلّ عليه الفعل ال عمران: ۱۴۵ ۱۰۵