اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 177
روحانی خزائن جلد۴ 122 الحق مباحثہ دہلی نزول کے وقت جس قدر اہل کتاب ہوں گے سب مسلمان ہو جائیں گے ۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسی (۴۷) کے نزول کے بعد اور ان کی موت سے پہلے ایک زمانہ ایسا ضرور ہو گا کہ اس وقت کے اہل کتاب سب مسلمان ہو جائیں گے اور ابو مالک کے کلام کا بھی یہی مطلب ہے ذرا غور سے ملاحظہ فرمائیے۔ قولہ آپ تسلیم کر چکے ہیں الی قولہ تو پھر اس لفظ کے لانے سے فائدہ کیا ہے۔ اقول حضرت من اس مقام پر بھی آپ نے میرے مطلب پر مطلق غور نہیں کیا اسلئے میں پھر اس کی تقریر کا اعادہ کرتا ہوں امید ہے کہ اگر آپ توجہ فرما ئیں گے تو سمجھ میں آجائے گا اور تسلیم بھی کر لیجئے گا۔ حاصل میری کلام کا یہ ہے کہ آپ کے اعتراض کا جواب بد و طور ہے اول یہ کہ آیت سے یہ نہیں ثابت ہوتا ہے کہ مسیح کے نزول کے بعد فور سب اہل کتاب ایمان لے آویں گے بلکہ یہ کہ بعد نزول مسیح اور قبل موت مسیح ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس زمانہ میں سب اہل کتاب ایمان لے آویں گے۔ پس احادیث صحیحہ اس کی منافی نہ ہوئیں کیونکہ جو کفار مسیح کے دم سے مرنے والے ہوں گے وہ پہلے مریں گے باقی ماندہ سب ایمان لے آدیں گے۔ دوم یہ کہ مراد ایمان سے یقین ہو نہ ایمان شرعی ۔ اس تقدیر پر بھی احادیث صحیحہ آیت کے اس معنی کی معارض نہیں ٹھہرتی ہیں الحاصل مقصود دفع تعارض ہے جو آپ نے آیت کے معنے اور احادیث صحیحہ میں بیان فرمایا ہے آپ معلوم نہیں کہ کہاں سے کہاں چلے گئے غور کر کے جواب لکھا کیجئے ۔ اب یہ انصاف سے غور کر کے فرمائیے کہ آپ کا یہ فرمانا کہ ان کا لفظ تو ایسا کامل حصر کیلئے استعمال کیا جاتا ہے کہ اگر ایک فرد بھی باہر رہ جاوے تو یہ لفظ بے کار اور غیر مؤثر ٹھہرتا ہے کیسا بے محل ہے۔ کیونکہ جس زمانہ کے لئے یہ حضر کیا گیا ہے اس کی نسبت پورا حصر ہے اور ایسا ہی یہ فرمانا کہ اول تو آپ نے ان کے لفظ سے زمانہ قبل از نزول کو باہر کیا۔ پھر اب زمانہ بعد از نزول میں بھی اس کا پورا پورا اثر ہونے سے انکار کیا تو پھر اس لفظ کے لانے سے فائدہ ہی کیا تھا محض بے موقع ہے کیونکہ خاکسار نے از خود زمانہ قبل از نزول کو باہر نہیں رکھا اور نہ زمانہ بعد از نزول میں پورا پورا اثر ہونے سے انکار کیا بلکہ یہ تو مقتضی نون ثقیلہ ولفظ بعد موتہ کا ہے جو کلام الہی میں واقع ہوا ہے اور ایسا ہی آپ کا یہ فرمانا کہ اب اگر ان کفار کو جو کفر پر مر گئے مومن بھہراتے ہیں یا اس جگہ ایمان سے مراد یقین رکھتے ہیں تو اس دعوے پر آپ کے پاس دلیل کیا ہے۔ محض بے ربط ہے۔ کیونکہ خاکساراس مقام پر نہ مدعی ان کے ایمان کا ہے اور نہ مدعی اس امر کا ہے کہ مراد ایمان سے یقین ہے۔ مقصود اس مقام پر صرف رفع تناقض ہے جو آپ نے درمیان آیت و احادیث کے سمجھا ہے اس امر