اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 178 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 178

KLA روحانی خزائن جلدم الحق مباحثہ دہلی ۲۸ کے فیصلہ کیلئے خاکسار آپ کے دو معتقد خاص حکیم نور الدین صاحب اور مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی کو حکم تسلیم کرتا ہے کہ آپ میری اس کلام کا مطلب بالکل نہیں سمجھے ۔ قولہ یا حضرت آپ ان کو آیتوں پر متوجہ ہوں الى قوله اب دیکھئے کہ قرآن مجید میں اللہ جل شانہ کا صاف وعدہ ہے کہ قیامت کے دن تک دونوں فرقے متبعین اور کفار باقی رہیں گے۔ اقول اس میں کلام ہے بد و وجہ اول یہ کہ آیت وَإِن مِنْ أَهْلِ الكتب میں صاف و عدہ ہے کہ قبل موت حضرت عیسی علیہ السلام کے سب اہل کتاب مومن ہو جائیں گے پس یہ آیت متخصص ہے آیت وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ تے کے۔ دوم احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ قبل قیامت سب شریر رہ جائیں گے جن پر قیامت قائم ہوگی ۔ پس معلوم ہوا کہ آیت عام مخصوص البعض ہے۔ قولہ پھر اللہ جل شانہ فرماتا ہے ۔ فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلى يَوْمِ الْقِمَةِ = اب ظاہر ہے کہ اگر قیامت کے پہلے ہی ایک فرقہ ان دونوں میں سے نابود ہو جاوے تو پھر عداوت کیونکر قائم رہے گی ۔ اقول یہ آیت بھی عام مخصوص البعض ہے۔ مخصص اس کی آیت وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَبِ ہے۔ قولہ۔ دوسری آیت آپ نے پیش کی ہے۔ کہ يُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَ كَهْلًا اقول کھل کے معنے میں فی الواقع اہل لغت نے اختلاف کیا ہے۔ اسی واسطے اس آیت کو قطعية الدلالة لذاتها نہیں کہا گیا بلکہ قطعية الدلالة لغيرها کہا گیا یعنی با نضمام آیت وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ جو قطعية الدلالت ہے یہ بھی قطعی ہو جاتی ہے اور آپ نے جو شبہ وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَبِ کے قطعية الدلالت ہونے میں کیا ہے وہ بالکلیہ مرتفع ہو گیا۔ قولہ صحیح بخاری میں دیکھئے جو بعد کتاب اللہ اصح الکتب ہے اس میں کھل کے معنے جو ان مضبوط کے ہیں۔ اقول عبارت بخاری یہ ہے وقال مجاهد الكهل الحلیم انتھی۔ آپ پر واجب ہے کہ یہ امر ثابت کیجئے کہ اس سے جوان مضبوط کس طرح سمجھا جاتا ہے۔ قولہ حضرت اس رافِعُكَ اِلَی میں جو رفع کا وعدہ دیا گیا ہے یہ وہی وعدہ تھا جو آیت بَلْ رَفَعَهُ اللہ میں پورا کیا گیا۔ اقول مسلم ہے کہ آیت إِلَی مُتَوَقِيكَ وَ رافعک میں جو وعدہ تھاوہ آیت بل رفعہ اللہ میں پورا کیا گیا۔ لیکن انی متوفیک میں موت مراد ہوتا غیر مسلم ہے جیسا کہ اس کی تقریر تحریر اول میں لکھ چکا ہوں اور آپ نے اس کا کچھ جواب نہیں دیا۔ قولہ نزول مسیح موعود سے کس کو انکار ہے۔ اقول آپ کو نزول عین عیسی ابن مریم سے انکار ہے اور حالانکہ تحریر اول میں لکھا گیا ہے کہ حدیث میں لفظ ابن مریم جس کے معنے حقیقی عین ابن مریم ہے موجود ہے النساء :١٦٠ آل عمران : ۵۶ ۳ المائدة: ۱۵ ۴ ال عمران: ۴۷