اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 176 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 176

روحانی خزائن جلد۴ ۱۷۶ الحق مباحثہ دہلی سب میں مراد صرف معنے مستقبل ہیں نہ حال اور نہ استمرار ۔ قولہ اور آپ کو معلوم ہے کہ تمام مفسرین قدیم و جدید جن میں عرب کے رہنے والے بھی داخل ہیں لیو منن کے لفظ کے حال کے معنے بھی کرتے ہیں۔ اقول ۔ ان لوگوں کے کلام میں کہیں تصریح حال کی نہیں ہے محتمل ہے کہ ان کی مراد استقبال ہو جیسا کہ آپ خود او پر لکھ چکے ہیں۔ کیا استقبال کے طور پر دوسرے معنے بھی نہیں ہو سکتے کہ کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے مسیح پر ایمان نہیں لائے گا دیکھو یہ بھی تو خالص استقبال ہی ہے۔ اگر کوئی شبہ کرے کہ پھر اس دوسرے معنے کا رد قاعدہ مقررہ نحاق کے موافق کیسے ہوگا۔ تو جواب یہ ہے کہ بے شک اس صورت میں قاعدہ مقررہ کی بنا پر البتہ رو نہ ہو سکے گا بلکہ اس کا رومنوط ہوگا امر آخر پر جس کا ذکر اوپر ہو چکا یعنی یہ کہ اس صورت میں کلام الہی اعلیٰ درجہ بلاغت سے نازل ہوا جاتا ہے۔ فليتأمل فانه اخرى بالتأمل ـ قوله اور آپ نے تفسیر ابن کثیر کے حوالہ سے جو لکھا ہے کہ نزول عیسی ہوگا اور کوئی اہل کتاب میں سے نہیں ہوگا جو اس کے نزول کے بعد اس پر ایمان نہیں لائے گا۔ یہ بیان آپ کیلئے کچھ مفید نہیں الی قولہ اور پھر اس قول کو مانحن فیہ سے تعلق کیا ہے۔ اقول اس مقام پر آپ نے میرے کلام کو غور سے ملاحظہ نہیں فرمایا۔ میرا مطلب وہ نہیں ہے جو آپ سمجھے ہیں میرا مطلب تو عبارت ابن کثیر کی نقل سے صرف اس قدر ہے کہ یہ معنے جو میں نے اختیار کئے ہیں اس طرف ایک جماعت سلف میں سے گئی ہے اور یہ امر میری تحریر میں مصرح ہے۔ چنداں غور کا بھی محتاج نہیں ہے۔ قولہ واضح رہے کہ آپ اس عاجز کے اعتراضات کو جوازالہ اوہام میں آیت موصوفہ بالا کے ان معنوں پر وارد ہوتے ہیں جو آپ کرتے ہیں اٹھا نہیں سکے بلکہ رکیک عذرات سے میرے اعتراضات کو اور بھی ثابت کر دیا۔ اقول میرے اللہ کا قوی ہونا ابھی ثابت ہو چکا۔ پس یہ آپ کا فرمانا بجائے خود نہیں ہے۔ قولہ آپکے نون ثقیلہ کا حال تو معلوم ہو چکا۔ اقول آپ نے نون ثقیلہ کے بارہ میں جو کچھ تحریر فرمایا وہ سب هَبَاء مُنبَنا ہو گیا۔ قولہ اور ليؤمنن کے لفظ کی تعمیم بدستور قائم رہی۔ اقول جب سیا مرثابت ہو گیا کہ نون مضارع کو خالص استقبال کیلئے کر دیتا ہے تو اب تعمیم کہاں قائم رہی۔ قولہ اب فرض کے طور پر اگر آیت کے یہ معنے لئے جاویں کہ حضرت عیسی کے نزول کے وقت جس قدر اہل کتاب ہوں گے سب مسلمان ہو جائیں گے جیسا کہ ابو مالک سے آپ نے روایت کیا ہے تو مجھے مہربانی فرما کر سمجھا دیں کہ یہ معنے کیونکر درست ٹھہر سکتے ہیں۔ اقول آپ نے اس معنے کی تقریر میں جو میرے نزدیک متعین ہیں تھوڑی سی خطا کی ہے۔ آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حضرت عیسی کے