اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 175

۱۷۵ الحق مباحثہ دہلی روحانی خزائن جلد۴ من ذكر او انثی من بنی آدم و قلبه مومن بالله ورسوله وان هذا العمل المامور به ۴۵ مشروع من عند الله بان يحي الله حيوة طيبة فى الدنيا وان يجزيه باحسن ما عمله في الدار الاخرة۔ انتھی ۔ اور جس کا وعدہ ہوتا ہے وہ چیز وعدہ کے بعد پائی جاتی ہے۔ دوم تراجم ثلاثہ سے استقبال معلوم ہوتا ہے۔ لفظ شاہ ولی اللہ صاحب کا یہ ہے ہر کہ عمل نیک کردمرد باشد یا زن واو مسلمان است هرانیه زنده نمش بزندگانی پاک۔ لفظ شاہ رفیع الدین صاحب کا یہ ہے جو کوئی کرے اچھا مردوں سے یا عورتوں سے اور وہ ہوا ایمان والا پس البتہ زندہ کریں گے ہم اس کو زندگی پاکیزہ۔ عبارت شاہ عبد القادر صاحب کی یہ ہے جس نے کیا نیک کام مرد ہو یا عورت ہو اور وہ یقین پر ہے تو اس کو ہم جلا دیں گے ایک اچھی زندگی۔ قولہ۔ چوتھی آیت یہ ہے وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزُ کے اقول یہاں استقبال مراد ہے بیچند وجوہ ۔ اول یہ کہ یہ وعدہ مہاجرین و انصار سے ہے قال البيضاوى وقد انجز وعده بان سلط المهاجرين والانصار على صناديد العرب واكاسرة العجم و قیاصرتهم و اورثهم ارضهم و دیارهم انتهی ۔ اور جس کا وعدہ کیا جاتا ہے وہ چیز بعد زمانہ وعدہ کے پائی جاتی ہے۔ دوم یہ کہ تراجم ثلاثہ میں استقبال مصرح ہے۔ عبارت شاہ ولی اللہ صاحب کی یہ ہے۔ والبتہ نصرت خواہد دادخدا کسے را که قصد نصرت دین دے کند۔ لفظ شاور فیع الدین صاحب کا یہ ہے۔ اور البتہ مدددیوے گا اللہ اس کو کہ مدد دیتا ہے اس کو ۔ لفظ شاہ عبدالقادر صاحب کا یہ ہے۔ اور اللہ مقرر مدد کرے گا اس کی جو مدد کرے گا اس کی۔ قولہ۔ پانچویں آیت یہ ہے وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِي الصُّلِحِينَ : اقول یہاں بھی مستقبل مراد ہے بد و وجہ اول یہ کہ یہ وعدہ ہے اور جس چیز کا وعدہ کیا جاتا ہے وہ وقت وعدہ کی متحقق نہیں ہوتی ہے بعد کو پائی جاتی ہے۔ دوم - تراجم ثلاثہ اس پر دال ہیں۔ عبارت شاہ ولی اللہ صاحب کی یہ ہے وآنانکہ ایمان آوردند و کار ہائے شائستہ کردند۔ البته در آریم ایشان را در زمره شائستگان۔ لفظ شاہ رفیع الدین صاحب کا یہ ہے۔ اور وہ لوگ کہ ایمان لائے اور کام کئے اچھے البتہ داخل کریں گے ہم ان کو بیچ صالحوں کے۔ لفظ شاہ عبدالقادر صاحب کا یہ ہے۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور بھلے کام کئے ہم ان کو داخل کریں گے نیک لوگوں میں۔ آپ کا محذور جب لازم آوے کہ یہ بیان ہو عادت کا بلکہ یہ تو وعدہ ہے۔ قولہ ۔ اب میں آپکے اس قاعدہ کو توڑ چکا کہ نون ثقیلہ کے داخل ہونے سے خواہ نخواہ اور ہر ایک جگہ خاص طور پر استقبال کے معنے ہی ہوا کرتے ہیں۔ اقول بالا معلوم ہوا کہ آپ نے جتنی آیتیں ذکر کی ہیں الحج : العنكبوت: ١٠