اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 148 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 148

۱۴۸ روحانی خزائن جلدم النعمة العظمى من الله فاشكروا ۱۱۵ و لا تكفـروهـا بـالتـمـرد و النكب هـو الـغـيـث فـيـكـم فاقدروا حق قدره | ١١٦ يروى البرايا كالصبيب من السحب هو النور بين الرشد و الغى في الورى ۱۱۷ به تنجلى سود الاساءة والذنب ولله عينا من راه فانه ۱۱۸ علی شرف اعلى وقد فاز بالحسب عجبت لمن لم يستبن بعد امره ۱۱۹ وقد بلغ الابكار في الخدر والحجب ویا عجبى ممن اساء ظنونه ابى الله الا ان يزيد اعتلاء ه ۱۲۰ به وهو يهديهم الى خالص الحب ومن يتحى ما شاء للمحو والقلب ۱۲۱ ابى الله الا ان يضييءَ سراجه - ۱۲۲ ومن ذا الذي يطفيه بالنفخ والحصب لـحـى الــلــه مــن ولاه بالبغي مدبرا ۱۲۳ يثير رعاع الناس بالويل والحرب لک الله قد ارسلت فينا مكرما ۱۲۴ فاهلا وسهلا مرحبا بک یا مُحبی ۱۱۵۔ وہ اللہ کی طرف سے بڑی نعمت ہے۔ اسکی قدر کرو۔ سرکشی اور روگردانی سے کفران نعمت کے ملزم نہ ہو۔ ۱۱۶۔ وہ تم میں ابر رحمت ہے اس کی پوری قدر کرو۔ یہ آسمانی باراں کی طرح مخلوقات کو سیراب کرتا ہے۔ ۱۱۷۔ وہ حق و باطل کے درمیان فرق کرنے کے لئے عالم میں ایک نور ہے اسی سے بدکاریوں اور گناہوں کی تاریکی دور ہوگی۔ ۱۱۸۔ مبارک ہو وہ آنکھ جس نے اسے دیکھا۔ کیونکہ اسے بڑا ہی شرف اور بڑا ہی اجر حاصل ہوا۔ مجھے اس شخص پر تعجب آتا ہے جس پر اب تک اس امام کا مشن واضح نہیں ہوا حالانکہ پردہ نشین کنوار یوں تک تو یہ دعوت پہنچ گئی ہے۔ ۱۱۹۔ ۱۲۰۔ اس پر تو بڑا ہی تعجب ہے جو اب تک اس پر بدظنی رکھتا ہے حالانکہ وہ تو خالص حب الہی کی انھیں راہ دکھاتا ہے۔ ۱۲۱۔ اللہ تعالی قطعی فیصلہ کر چکا ہے کہ اس امام کی عظمت و قدر بڑھے گی اور جسے خدا قائم رکھنا چاہے اسے کون میٹ سکے یا ادل بدل کر سکے۔ ۱۲۲۔ اللہ تعالیٰ ضرور اسکے چراغ کو منور رکھنے والا ہے۔ کون ہے جو پھونکوں اور کنکروں سے اسے بجھا دے؟۔ ۱۲۳۔ خدا کی پھٹکار اس پر جو اس سے روگرداں ہوتا اور سفلہ لوگوں کو اس کے مقابلہ کے لئے جوش دلاتا ہے۔ ۱۲۴۔ اللہ تعالیٰ تیرے ساتھ ہو! تو ہم میں مکرم ومعظم بھیجا گیا ہے۔ آئیے آئیے اے فیاض کریم ہمارے سر آنکھوں پر بیٹھئے۔