اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 149
۱۴۹ روحانی خزائن جلد۴ واشقى عباد الله من صار جاحدا ۱۲۵ الفضلک و استهواه ابليس في الشقب فــاخـــزاه فـي الـدنـيـا وسـود وجهه ۱۲۶ وقـدامـه يــوم الـنــدامـة والـسـحـب دعانى الى ذا النظم صدق مودّة | ۱۲۷ وفرط اشتياق كان مستوطن القلب فهاک امام المؤمنين حديقة ۱۲۸ منضرة الاشجار مخضرة القضب ودونک منی روضة مستطابة | ۱۲۹ سقاها الحجى سقى السحائب لا الغرب يروق عيون الناظرين ابتسامها ۱۳۰ اذا سرحت فيها قلوبهم يطبى قواف تزيد السامعين اشتياقكم ۱۳۱ اذا انشدوهـا نـحـوا عتابكم يصبى احن اليــكـم والـــديـــار بـعيـدة ۱۳۲ وشوق لقـاء يـنـجد العين بالسكب تهز النسيم القلب حين هبوبها ۱۴۴ کهزلسان بالثنا دايما رطب سقام وبــعـــدثــم عذر و وحدة ۱۳۴ فكيف الحدور السهل فى المرتقى الـ ۱۲۵۔ بڑا ہی شقی بندہ ہے جو تیری فضیلت کا منکر ہوا۔ اور اسے شیطان نے وادی ضلالت میں پھینک دیا۔ ١٢٦۔ خدا نے اسے دنیا میں ذلیل اور روسیاہ کر دیا اور عاقبت میں اسکے سامنے دخول جہنم اور ندامت ہے۔ ۱۲۷۔ میں نے یہ قصیدہ مدحیہ محض اخلاص محبت اور کمال اشتیاق سے جو میرے دل میں جاگزین ہے لکھا ہے۔ ۱۲۸۔ اے امام المومنین! لیجئے یہ ایک باغ ہے جس کی شاخیں اور درخت سب سرسبز ہیں۔ ۱۲۹۔ میری طرف سے یہ باغ عجیب تحفہ قبول فرمائے۔ یہ باغ سدا سرسبز رہنے والا ہے اور بھی خزاں کا منہ نہ دیکھے گا۔ ۱۳۰۔ اس کی شگفتگی ناظرین کی آنکھوں کو خنک کر دیتی ہے اور جب انکے دل اس میں سیر و تفریح کریں تو انہیں خوش وخرم کرتی ہے۔ ۱۳۱۔ یہ ایسے اشعار ہیں کہ جب پڑھے جائیں گے تو سامعین کے دلوں میں اشتیاق پیدا کرینگے پھر وہ شوق حضور کی آستان بوسی کی طرف انھیں مائل کرے گا۔ ۱۳۲۔ میں آپ کا مشتاق ہو رہا ہوں۔ ملک بہت دور ہے اور شوق ملاقات میں میری آنکھیں آنسو برسا رہی ہیں ۔ ۱۳۳۔ جب نیم چلتی ہے میرے دل کو جنبش دے جاتی ہے جسطرح میری زبان حضور کی مدح وثنا میں ہمیشہ حرکت کرتی رہتی ہے۔ ۱۳۴۔ بیماری۔ دوری ۔ عذر اور تنہائی اور اس پر دشوار گزار بیابان اور کٹھن منزلیں میری راہ میں حائل ہیں۔