آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 666 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 666

نافوں سے زیادہ خوشبودار ہے۔وہ لوگوں کی عقل وسمجھ سے بالاتر ہے فکر کی کیا مجال کہ اس ناپیدا کنار سمندر کی حد تک پہنچ سکے۔قَوْلِ بَلٰی کہنے میں اس کی روح سب سے اول ہے وہ توحید کا آدم ہے اور آدم سے بھی پہلے یار سے اُس کا تعلق تھا۔مخلوق الٰہی کے لئے جان دینا اس کی فطرت میں ہے وہ شکستہ دلوں کا جان نثار اور بیکسوں کا ہمدرد ہے۔ایسے وقت میں جبکہ دنیا کفر وشرک سے بھر گئی تھی سوائے اس بادشاہ کے اور کسی کا دل اس کے لئے غمگین نہ ہوا۔کوئی بھی شرک کی نجاست اور بتوں کی گندگی سے آگاہ نہ تھا صرف احمد کے دل کو یہ آگاہی ہوئی جو محبت الٰہی سے چور تھا۔کون جانتا ہے اور کسے اُس آہ وزاری کی خبر ہے؟جو آنحضرت نے دنیا کے لئے غارِ حرا میں کی صفحہ ۲۵۔میں نہیں جانتا کہ کیا درد، غم اور تکلیف تھی جو اسے غم زدہ کر کے اُس غار میں لاتی تھی۔نہ اُسے اندھیرے کا خوف تھا، نہ تنہائی کا ڈر، نہ مرنے کا غم، نہ سانپ بچھو کا خطرہ۔وہ کشتہ ئِ قوم فدائے خلق اور اہل جہاں پر قربان تھا نہ اسے اپنے تن بدن سے کچھ تعلق تھا نہ اپنی جان سے کچھ کام۔خدا کی مخلوق کے لئے دردناک آہیں بھرتا تھا اور خدا کے سامنے رات دن گریہ وزاری اس کا کام تھا۔اُس کے عجزو دعا کی وجہ سے آسمان پر سخت شور برپا ہو گیا اور اس کے غم کی وجہ سے فرشتوں کی آنکھیں بھی غم سے اشکبار ہو گئیں۔آخر کار اُس کی عاجزی مناجات اور گریہ وزاری کی وجہ سے خدا نے تاریک وتار دنیا پر مہربانی کی نظر فرمائی۔جہاں میں بدعملیوں کا خطرناک طوفان بپا تھا اور ہر ملک میں لوگ شرک اور گناہوں کے مارے اندھے اور بہرے ہو رہے تھے۔دنیا نوح کے زمانہ کی طرح ہر قسم کے فسادوں سے بھر گئی تھی کوئی دل بھی ظلمت اور گردو غبار سے خالی نہ تھا۔ہر روح اور ہر نفس پر شیاطین کا قبضہ تھا تب خدا تعالیٰ نے محمدؐ کی روح پر تجلی فرمائی۔تمام گوری اور کالی قوموں پر اُس کا احسان ثابت ہے اُس نے نوع انسانی کے لئے اپنی جان قربان کر دی۔اے نبی اللہ ! تو ہی ہدایت کے راستوں کا سورج ہے تیرے بغیر کوئی عارف پرہیز گار ہدایت نہیں پا سکتا