آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 665 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 665

۔ہم نے دل دے دیا اور جان کو بھی اس راہ میں ہتھیلی میں رکھ کر پیش کیا اور محبوب کے وصال کے لئے ہر حیلہ بروئے کار لائے صفحہ ۱۸۔یعنی اخویم مولوی نور الدین بھیروی کہ جن پر ہمدردی اسلام کا جذبہ غالب ہے اور اسی وجہ سے سماوی نورانیت کے انتشار سے مشابہت رکھتے ہیں اور یہ اللہ کا فضل ہے صفحہ ۲۳۔مجھ سے اُس عالی قدر سردار کی تعریف کس طرح ہو سکے جس کی مدح سے زمین وآسمان اور دونوں جہان عاجز ہیں۔قرب کا وہ مقام جو وہ محبوبِ ازلی کے ساتھ رکھتا ہے اُس کی شان کو واصلانِ بارگاہِ الٰہی میں سے بھی کوئی نہیں جانتا۔وہ مہربانیاں جو محبوب ازلی اس پر فرماتا رہتا ہے۔وہ کسی نے دنیا میں خواب میں بھی نہیں دیکھیں۔خاصانِ حق کا سردار اور عاشقانِ الٰہی کی جماعت کا بادشاہ ہے جس کی روح نے محبوب کے وصل کے ہر درجہ کو طے کر لیا ہے۔وہ مبارک قدم جس کی ذات والا صفات رحمت بن کر اس ربّ العالمین پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی صفحہ ۲۴۔وہ جو کہ جناب الٰہی میں قرب خاص رکھتا ہے وہ جس کی شان خواص اور بزرگ بھی نہیں سمجھتے۔احمد آخر الزمان جو پہلوں کے لئے فخر کی جگہ ہے اور پچھلوں کے لئے پیشوا۔مقام پناہ، جائے حفاظت اور قلعہ ہے۔اُس کی عالی بارگاہ سارے جہان کو پناہ دینے والی کشتی ہے۔حشر کے دن کوئی بھی اس کی پناہ میں آنے کے بغیر نجات نہیں پائے گا۔وہ ہر قسم کے کمالات میں ہر ایک سے بڑھ کر ہے اس کی بلندی ئِ ہمت کے آگے آسمان بھی ایک ذرہ کی طرح ہیں۔وہ اس نور کا مظہر ہے جو روز ازل سے مخفی تھا اور اس سورج کے نکلنے کی جگہ ہے جو ابتدا سے نہاں تھا۔وہ آسمانی مجلس کا میر مجلس اور زمین پر اللہ کی حجت ہے نیز ذات باری کا عظیم الشان مضبوط نشان ہے۔اس کے وجود کا ہر رگ وریشہ خداوندِ ازلی کا گھر ہے اس کا ہر سانس اور ہر ذرہ دوست کے جمال سے مامور ہے۔اس کے چہرہ کا حسن سینکڑوں چاند اور سورج سے بہتر ہے اس کے کوچہ کی خاک تاتاری مشک کے سینکڑوں