آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 667
۔اے نبی اللہ ! تیرے ہونٹ زندگی بخش چشمہ ہیں اے نبی اللہ! تو ہی خدا کے راستہ کا رہنما ہے۔ایک تو تیری پاک باتیں زید وعمر کے پاس جا کر تلاش کرتا ہے اور دوسرا بلا توسط تیرے منہ سے ان کو سنتا ہے۔وہ شخص زندہ ہے جو تیرے چشمہ سے پانی کے گھونٹ پیتا ہے اور وہی انسان عقلمند ہے جس نے تیری پیروی اختیار کی صفحہ ۲۶۔عارفوں کی معرفت کا آخری نقطہ تیرے رخ کا علم ہے اور راستبازوں کے صدق کا منتہا تیرے عشق پر ثابت قدم رہنا ہے۔تیرے بغیر کوئی عرفان کی دولت کو نہیں پا سکتا، اگرچہ وہ ریاضتیں اور جدوجہد کرتا مر بھی جائے۔تیرے عشق کے سوا صرف اپنے اعمال پر بھروسہ کرنا بے وقوفی ہے جو تجھ سے غافل ہے وہ ہرگز نیکی کا منہ نہ دیکھے گا۔تیرے عشق کی وجہ سے ایک دم میں وہ نور حاصل ہو جاتا ہے جو سالکوں کو ایک لمبے زمانے میں حاصل نہیں ہوتا۔دنیا کی عجیب چیزوں میں سے جو چیز بھی دل پسند اور مفید ہے ایسی ہر چیز کی خوبیاں مَیں تیری ذات میں پاتا ہوں۔تیرے عشق کے زمانہ سے اور کوئی زمانہ زیادہ اچھا نہیں اور کوئی کام تیری مدح وثنا سے زیادہ بہتر نہیں۔چونکہ مجھے تیری بے انتہا خوبیوں کا تجربہ ہے اس لئے اگر دوسرے تیرے خدمت گزار ہیں تو میں تجھ پر جان فدا کرنے کو تیار ہوں۔ہر شخص اپنی نماز میں ) اپنے لئے(دعا کرتا ہے مگر میں اے میرے آقا تیری آل واولاد کے لئے دعا مانگتا ہوں۔اے نبی اللہ !میں تیرے بال بال پر فدا ہوں اگر مجھے ایک لاکھ جانیں بھی ملیں تو تیری راہ میں سب کو قربان کر دوں۔اصل میں تیری اتباع اور تیرا عشق ہر دل کے لئے کیمیا اور ہر زخمی جان کے لئے اکسیر ہے۔دل اگر تیری محبت میں خون نہیں تو وہ دل ہی نہیں اور جو جان تجھ پر قربان نہ ہو وہ جان کس کام کی۔تیری محبت میں میرا دل موت سے بھی نہیں ڈرتا میرا استقلال دیکھ کہ میں صلیب کے نیچے خوش خوش جا رہا ہوں۔اے اللہ کی رحمت ہم تیرے رحم کے امیدوار ہیں تو وہ ہے کہ ہم جیسے لاکھوں تیرے در کے امیدوار ہیں۔اے نبی اللہ! میں تیرے پیارے مکھڑے پر نثار ہوں۔مَیں نے اُس سر کو جو کندھوں پر بار ہے تیری راہ میں وقف کر دیا ہے