آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 320 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 320

روحانی خزائن جلد ۵ ۳۲۰ آئینہ کمالات اسلام (۴۳۲۰ جنوری ۱۸۹۳ء کو مجھ کو ملا۔ اگر چہ آپ کا یہ خط جو کذب اور تہمت اور بیجا افتراؤں کا ایک مجموعہ ہے اس لائق نہیں تھا کہ میں اس کا کچھ جواب آپ کو لکھتا فقط اعراض کافی تھا لیکن چونکہ آپ نے اپنے خط کے صفحہ دو اور تین میں اس عاجز کی تین پیشگوئیوں کا ذکر کر کے بالآخر اس تیسری پیشگوئی پر حصر کر دیا ہے جو نور افشان دہم مئی ۱۸۸۸ء اور نیز میرے اشتہار مشتہر ہ ۱۰؍ جولائی ۱۸۸۸ء میں درج ہے اور آپ نے اقرار کیا ہے کہ اگر اس الہام کا سچا ہونا ثابت ہو جائے تو میں آپ کو ملہم مان لوں گا اور یہ سمجھوں گا کہ میں نے آپ کے عقائد و تعلیمات کو مخالف حق اور آپ کو بد اخلاق اور گمراہ سمجھنے میں غلطی کی ۔ اس لئے اس عاجز نے پھر آپ کی حالت پر رحم کر کے آپ کو اس الہامی پیشگوئی کے ثبوت کی طرف توجہ دلانا مناسب سمجھا ۔ وہ پیشگوئی جیسا کہ آپ خود اپنے خط میں بیان کر چکے ہیں یہی تھی کہ اگر مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری اپنی بیٹی اس عاجز کو نہ دیوے اور کسی سے نکاح کر دیوے تو روز نکاح سے تین برس کے اندر فوت ہو جائے گا ۔ اس پیشگوئی کی یہ بنیاد نہیں تھی کہ خواہ نخواہ مرزا احمد بیگ کی بیٹی کی درخواست کی گئی تھی بلکہ یہ بنیا د تھی کہ یہ فریق مخالف جن میں سے مرزا احمد بیگ بھی ایک تھا اس عاجز کے قریبی رشتہ دار مگر دین کے سخت مخالف تھے اور ایک ان میں سے عداوت میں اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ اللہ جل شانہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علانیہ گالیاں دیتا تھا اور اپنا مذ ہب دہریہ رکھتا تھا اور نشان کے طلب کے لئے ایک اشتہار بھی جاری کر چکا تھا اور یہ سب مجھ کو مکار خیال کرتے تھے اور نشان مانگتے تھے اور صوم وصلوٰۃ اور عقائد اسلام پر ٹھٹھا کیا کرتے تھے سو خدائے تعالیٰ نے چاہا کہ ان پر اپنی حجت پوری کرے۔ سو اس نے نشان دکھلانے میں وہ پہلو اختیار کیا جس کا ان تمام