آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 321 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 321

روحانی خزائن جلد ۵ ۳۲۱ آئینہ کمالات اسلام بے دین قرابتیوں پر اثر پڑتا تھا خدا ترس آدمی سمجھ سکتا ہے کہ موت اور حیات انسان کے (۳۲۱ اختیار میں نہیں اور ایسی پیشگوئی جس میں ایک شخص کی موت کو اس کی بیٹی کے نکاح کے ساتھ جو غیر سے ہو وابستہ کر دیا گیا اور موت کی حد مقرر کر دی گئی انسان کا کام نہیں ہے۔ چونکہ یہ الہامی پیشگوئی صاف بیان کر رہی تھی کہ مرزا احمد بیگ کی موت اور حیات اس کی لڑکی کے نکاح سے وابستہ ہے اس لئے پانچ برس تک یعنی جب تک اس لڑکی کا کسی دوسری جگہ نکاح نہ کیا گیا مرزا احمد بیگ زندہ رہا اور پھر ے اپریل ۱۸۹۲ء میں احمد بیگ نے اس لڑکی کا ایک جگہ نکاح کر دیا اور بموجب پیشگوئی کے تین برس کے اندر یعنے نکاح سے چھٹے مہینہ میں جو ۳۰ ستمبر ۱۸۹۲ء تھی فوت ہو گیا اور اسی اشتہار میں یہ بھی لکھا تھا کہ اگر چہ روز نکاح سے موت کی تاریخ تین برس تک بتلائی گئی ہے مگر دوسرے کشف سے معلوم ہوا کہ کچھ بہت عرصہ نہیں گزرے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ نکاح اور موت میں صرف چھ مہینہ بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہا یعنے جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں کہ ۷ را پریل ۱۸۹۲ء میں نکاح ہوا اور ۳۰ ستمبر ۱۸۹۲ء کو مرزا احمد بیگ اس جہان فانی سے رخصت ہو گیا ۔ اب ذرا خدا تعالیٰ سے ڈر کر کہیں کہ یہ پیشگوئی پوری ہو گئی یا نہیں اور اگر آپ کے دل کو یہ دھوکا ہو کہ کیونکر یقین ہو کہ یہ الہامی پیشگوئی ہے کیوں جائز نہیں کہ دوسرے وسائل نجوم و رمل و جفر وغیرہ سے ہو تو اس کا یہ جواب ہے کہ منجموں کی اس طور کی پیشگوئی نہیں ہوا کرتی جس میں اپنے ذاتی فائدہ کے لحاظ سے اس طور کی شرطیں ہوں کہ اگر فلاں شخص ہمیں بیٹی دے تو زندہ رہے گا ور نہ نکاح کے بعد تین برس تک بلکہ بہت جلد مرجائے گا اگر دنیا میں کسی منجم یار مال کی اس قسم کی پیشگوئی ظہور میں آئی ہے تو وہ اس کے ثبوت کے ساتھ پیش کریں علاوہ اس کے اس پیشگوئی کے ساتھ اشتہار میں ایک دعوی پیش