آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 263
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۶۳ آئینہ کمالات اسلام مجلس میں وہ مضمون بہر حال سنادوں گا اگر اس وقت طبع ہو گیا ہو یا نہ ہوا ہو ۔ لیکن یادر ہے کہ (۲۶۳ ہماری طرف سے یہ شرط ضروری ہے کہ تکفیر کے فتویٰ لکھنے والوں نے جو کچھ سمجھا ہے اول اس تحریر کی غلطی ظاہر کی جائے اور اپنی طرف سے دلائل شافیہ کے ساتھ اتمام حجت کیا جائے اور پھر اگر باز نہ آویں تو اسی مجلس میں مباہلہ کیا جائے اور مباہلہ کی اجازت کے بارے میں جو کلام الہی میرے پر نازل ہوا وہ یہ ہے۔ نظر الله الیک معطرا و قالوا اتجعل فيها من يفسد فيها دقیق در دقیق فلسفیانہ اور دہر یا نہ حملوں کی پہلے وقتوں میں کہاں نظیر مل سکتی ہے اور ان پیچ در پیچ عاقلانہ ہنگاموں کا قرون گزشتہ میں کہاں پتہ لگ سکتا ہے اس قسم کی علمی اور عقلی آفات کسی پہلے زمانہ میں کہاں ہیں جن کا اب اسلام کو سامنا ہوا ہے کب اور کس وقت ایسی مشکلات کسی پہلے زمانہ میں بھی پیش آئی تھیں جواب پیش آرہی ہیں ۔ کیا آپ کو اس بات کا اقرار نہیں کہ یہ اخذ درجہ کے علمی مباحث کی مصیبتیں اور صعوبتیں جواب اسلام پر وارد ہیں اس کے پہلے زمانوں میں ایسی مصیبتیں کبھی وارد نہیں ہوئیں اور نہ آدم سے لے کر ایں دم تک اس کی کوئی نظیر پائی جاتی ہے۔ کیا آپ اس بات کو نہیں مانتے کہ اس فلسفہ اور سائنس کی بلا اس بلا سے ہزار ہا درجہ شدت اور غلظت میں بڑھ کر ہے جو یونانیوں کے علوم سے اسلامی ملکوں میں پھیلی تھی کیا آپ اس امر واقعہ کو تسلیم نہیں کرتے کہ یہ دشمن جو اب پیدا ہوا ہے اپنی قوت بازو میں ان تمام دشمنوں کے مجموعہ سے بڑھ کر ہے جو متفرق زمانوں میں