آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 262 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 262

روحانی خزائن جلد ۵ ۲۶۲ آئینہ کمالات اسلام ۲۲۲ ہیں اور اگر وہ انکار کریں تو پھر شیخ محمد حسین بطالوی اور اگر وہ انکار کریں تو پھر بعد اس کے تمام وہ مولوی صاحبان جو مجھ کو کافر ٹھہراتے اور مسلمانوں میں سرگروہ سمجھے جاتے ہیں اور میں ان تمام بزرگوں کو آج کی تاریخ سے جو دہم دسمبر ۱۸۹۲ء ہے چار ماہ تک مہلت دیتا ہوں اگر چار ماہ تک ان لوگوں نے مجھ سے بشرائط متذکرہ بالا مباہلہ نہ کیا اور نہ کا فر کہنے سے باز آئے تو پھر اللہ تعالیٰ کی حجت ان پر پوری ہو گی میں اول یہ چاہتا تھا کہ وہ تمام بے جا الزامات جو میری نسبت ان لوگوں نے قائم کر کے موجب کفر قرار دیئے ہیں اس رسالہ میں ان کا جواب شائع کروں لیکن باعث بیمار ہو جانے کا تب اور حرج واقع ہونے کے ابھی تک وہ حصہ طبع نہیں ہو سکا سو میں مباہلہ کی کا ہاتھ اس پر ہوگا سو وہ خالص اسلام کی کشتی یہی ہے جس پر سوار ہونے کے لئے میں لوگوں کو بلاتا ہوں اگر آپ جاگتے ہو تو اٹھو اور اس کشتی میں جلد سوار ہو جاؤ کہ طوفان زمین پر سخت جوش کر رہا ہے اور ہر یک جان خطرہ میں ہے اگر آپ انصاف پسند ہوں تو سب سے پہلے آپ اس طوفان کے وجود کا اقرار کر سکتے ہیں بلکہ آپ نے تو کئی جگہ اقرار کر دیا ہے کہ اسلام کی کشتی کو طوفان سے بچانے کا وعدہ جو قرآن کریم میں موجود ہے اس طوفان اور اس وعدہ کا زمانہ نہیں ہے ایسے طوفان کا زمانہ اس امت پر کبھی نہیں آیا جواب آ گیا دنیا نے کبھی علم اور مذہب کی وہ لڑائیاں نہ دیکھیں جواب ہو رہی ہیں کبھی کسی پرانے طبعی اور فلسفہ نے اسلام کا ایسا نقش مٹانا نہ چاہا جو حال کا سائنس مٹانے کی فکر میں ہے کون اس درجہ کی عقلی اور علمی رہزنیوں کا پہلے زمانوں میں کوئی نشان دے سکتا ہے جن کو اب ہم بچشم خود دیکھ رہے ہیں کس کی یہ طاقت ہے کہ اس معقولی طوفان کا نمونہ کسی پہلے وقت میں دکھاوے جس کو اب ہم دن رات مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ان