آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 264 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 264

روحانی خزائن جلد ۵ ۲۶۴ آئینہ کمالات اسلام قال انى اعلم ما لا تعلمون۔ قالوا كتـاب مـمـتـلـى من الكفر والكذب قل تعالوا ندع ابناء نا و ابناء كم و نساء نا و نساء كم وانفسنا و انفسكم ثم نبتهل پیدا ہوتے رہے ہیں پھر آپ اس اقرار سے کہاں بھاگ سکتے ہیں کہ وہ پاک وعدہ جس کو یہ پیارے الفاظ ادا کر رہے ہیں کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ وہ انہیں دنوں کے لئے وعدہ ہے جو بتلا رہا ہے کہ جب اسلام پر سخت بلا کا زمانہ آئے گا اور سخت دشمن اس کے مقابل کھڑا ہوگا اور سخت طوفان پیدا ہو گا تب خدائے تعالیٰ آپ اس کا معالجہ کرے گا اور آپ اس طوفان سے بچنے کے لئے کوئی کشتی عنایت کرے گا وہ کشتی اس عاجز کی دعوت ہے اگر کوئی سن سکتا ہے تو سنے آپ احادیث نبویہ کے تو سرے سے انکاری ہیں پھر ہر ایک صدی پر مجدد آنے کی حدیث آپ کے سامنے پیش کرنا فضول ہے آپ کیوں اس کو قبول کریں گے اس سے تو فراغت ہے مگر میں آپ کو اسی آیت موصوفہ بالا اور اسی کی مانند اور کئی آیتوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو میں نے اس بحث کے موقعہ پر اسی کتاب میں لکھی ہیں ۔ حضرت یہ وہ زمانہ ہے اور یہ وہ آفات ہیں کہ جن کے لئے ضرور تھا کہ عنایت از لی آپ ہی توجہ کرتی قرآن کریم اسی زمانہ کی بلاؤں کی طرف الحجر: ١٠