آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 227

روحانی خزائن جلد ۵ ۲۲۷ آئینہ کمالات اسلام واضح ہو کہ جب کوئی اپنے مولیٰ کا سچا طالب کامل طور پر اسلام پر قائم ہو جائے (۲۲۷) اور نہ کسی تکلف اور بناوٹ سے بلکہ طبعی طور پر خدا تعالیٰ کی راہوں میں ہر ایک جس میں وہ پھنس گئے اور وہ یہ کہ قبل اس کے کہ وہ قرآن کریم کی تعلیمات میں تدبر کرتے اور اس سے تسلی بخش دلائل سے اطلاع پاتے کسی منفوس وقت میں ان کتابوں کی طرف متوجہ ہو گئے جواس زمانہ کے یورپ کے فلاسفروں نے جود ہر یہ کے قریب قریب ہیں تالیف کی ہیں اور نہ صرف یہی بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسے ملحد طبع نو تعلیم یافتہ لوگوں کی باتیں بھی سنتے رہے جن کی طبیعتوں میں یورپ کے طبعی اور فلسفہ پھنس گیا تھا سو جیسا کہ یکطرفہ خیالات کے سنے کا نتیجہ ہوا کرتا ہے وہی نتیجہ سید صاحب کو بھی بھگتنا پڑا۔ قرآن کریم کے حقائق معارف سے تو بے خبر ہی تھے اس لئے فلاسفروں کی تقریروں کے ساحرانہ اثر نے سید صاحب کے دل پر وہ کام کیا کہ اگر خدا تعالیٰ کا فضل اور طینت کی پاکیزگی جو اسی کے فضل سے تھی ان کو نہ تھا متی تو معلوم نہیں کہ ان کی یہ سرگردانی اب تک کہاں تک ان کو پہنچاتی سید صاحب کی یہ نیک منشی در حقیقت قابل تعریف ہے کہ انہوں نے بہر حال قرآن شریف کا دامن نہیں چھوڑا گوسہوا اس کے منشاء اور اس کی تعلیم اور اس کی ہدایتوں سے ایسے دور جاپڑے کہ جو تا و ملیں قرآن کریم کی نہ خدائے تعالیٰ کے علم میں تمھیں نہ اس کے رسول کے علم میں نہ صحابہ کے علم میں نہ اولیا اور قطبوں اور نمونوں اور ابدال کے علم میں اور نہ ان پر دلالت النص نہ اشارۃ النص وہ سید صاحب کو سو جھیں زیادہ تر افسوس کا یہ مقام ہے کہ سید صاحب نے قرآن شریف کی ان تعلیموں پر جو اصل اصول اسلام اور وحی الہی کا لب لباب تھیں یا یوں کہو کہ جن کا نام اسلام تھا خیر خواہی کی نیت سے پانی پھیر دیا اور اپنی تفسیر میں آیات بینات قرآن کریم کی ایسی بعید از صدق و انصاف تاویلیں کی جو کہ جن کو ہم کسی طرح سے تاویل نہیں کہہ سکتے بلکہ ایک پیرایہ میں قرآن کریم کی پاک تعلیمات کا رد ہے۔ سید صاحب کے ہر یک فقرہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اس نئے فلسفہ سے جو یورپ نے پیش کیا ہے ان کا دل سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” کیں “ہونا چاہیے۔(ناشر )