آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 228
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۲۸ آئینہ کمالات اسلام ۲۸ قوت اس کے کام میں لگ جائے تو آخری نتیجہ اس کی اس حالت کا یہ ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کی ہدایت کی اعلیٰ تجلیات تمام مُجب سے مبرا ہو کر اس کی طرف رخ کرتی ہیں اور طرح طرح کی برکات اس پر نازل ہوتی ہیں اور وہ احکام اور وہ عقائد جو محض ایمان اور کا نپتا اورلرزتا ہے اور ان کی روح اس کو سجدہ کر رہی ہے ہم نے جس کسی ایسے مقام سے ان کی تفسیر کو دیکھا جہاں انہیں قرآن کریم سچ سچ فلسفہ موجودہ کے مخالف یا بظاہر نظر مخالف معلوم ہوتا تھا وہاں یہی پایا کہ سید صاحب اقراری مدعا علیہ کی طرح فلسفہ کے قدموں پر گر پڑے۔ اور فلسفی تعلیمات کو بسر و چشم قبول کر کے تاویلات رکیکہ کے ساتھ قرآن کریم کی طرف سے ایسی ذلت کے ساتھ صلح کا پیغام پہنچایا کہ جیسے عاجز اور مغلوب دشمن در ماندہ ہو کر اور ہر طرف سے رک کر چند کیسے اور بے ہودہ عذرات سے مصالحہ کا طالب ہوتا ہے ہم کو یہ شوق ہی رہا کہ سید صاحب کی کوئی ایسی تالیف بھی دیکھیں جس میں سید صاحب نے کوئی تیز تلوار فلسفہ موجودہ پر چلائی ہو اور مخالفت کے موقع پر بغیر کسی تاویل کے قرآن کریم کا بول بالا ثابت کیا ہو مگر افسوس کہ یہ ہمارا شوق پورا نہ ہوا۔ اگر ستید صاحب ان احادیث کی تاویلات کرتے جو قرآن کریم کے بینات سے بظاہر ان کو معارض معلوم ہوتیں اور نیز فلسفہ موجودہ کے رو سے قابل اعتراض ٹھہر تھیں تو ہمیں چنداں افسوس نہ ہوتا کیونکہ ہم خیال کرتے کہ بڑا متکا اور مدار ایمان جس کا حرف حرف قطعی اور متواتر اور یقینی اصحت ہے یعنی قرآن کریم سید صاحب کے ہاتھ میں ہے مگر ان کی اس لغزش کو کہاں چھپائیں اور کیونکر پوشیدہ کریں کہ انہوں نے تو قرآن کریم پر ہی خط نسخ کھینچنا چاہا۔ میں کبھی تسلیم نہیں کروں گا کہ کسی موقع پر ان کے قلب نے شہادت دی ہو کہ جو کچھ تاویلات کا دور دراز تک دامن انہوں نے پھیلایا ہے وہ صحیح ہے بلکہ جابجا خود ان کا دل ان کو ملزم کرتا ہوگا کہ اے شخص تیری تمام تاویلات ایسی ہیں کہ اگر قرآن کریم ایک مجسم شخص ہوتا تو بصد زبان ان سے بیزاری ظاہر کرتا اور اس نے بیزاری ظاہر کی ہے کیونکہ وہ ان لوگوں کو سخت مورد غضب ٹھہراتا ہے جو اس کی آیات میں الحاد