آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 226 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 226

روحانی خزائن جلد ۵ ۲۲۶ آئینہ کمالات اسلام ۲۲۶ بخدا دل سے مرے مٹ گئے سب غیروں کے نقش جب سے دل میں یہ تیرا نقش جمایا ہم نے دیکھ کر تجھ کو عجب نور کا جلوہ دیکھا نور سے تیرے شیاطیں کو جلایا ہم نے ہم ہوئے خیر اہم تجھ سے ہی اے خیر رسل تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے آدمی زاد تو کیا چیز فرشتے بھی تمام مدح میں تیری وہ گاتے ہیں جو گایا ہم نے قوم کے ظلم سے تنگ آ کے مرے پیارے آج شور محشر ترے کوچہ میں مچایا ہم نے اب ہم کسی قدر اس بات کو ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ اسلام ہی کے ثمرات کیا ہیں سو سید احمد خان صاحب سی ایس آئی پر ایک ضروری اتمام حجت اسلام کے ایک جدید فرقہ کے سرگروہ سید احمد خان صاحب کی ایس آئی کی بعض تحریرات خصوصا ان کی تفسیر کے دیکھنے سے کچھ ایسے خیالات ان کے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا ان کو اس بات سے انکار ہے کہ بیچ بیچ کسی کو مخاطبہ اور مکالمہ البہیہ نصیب ہو سکے ۔ اور میں اب تک یہی سمجھتا ہوں کہ وہ اس وحی سے منکر ہیں جو بذریعہ جبرائیل علیہ السلام انبیا ء کو ملتی ہے اور الہی طاقتوں غیب گوئی اور دیگر خوارق کو اپنے اندر رکھتی ہے اور خالصا آسمان سے نازل ہوتی ہے نہ کہ کوئی فطرتی قوت اگر چہ وہ بظاہر جبرائیل کو بھی مانتے ہیں مگر ان کا جبرائیل وہ نہیں ہے جس کو بالا تفاق ہیں کروڑ مسلمان دنیا میں مان رہے ہیں وہ کلام الہی کے بھی قائل ہیں مگر اس کلام کے نہیں جو خدا کا نور اور خدائی طاقتیں اپنے وجود میں رکھتا ہے بلکہ صرف ایک ملکہ فطرت جو انسانی ظرف کے اندازہ پر فیض الہی قبول کرتا ہے نہ وہ وحی جو خدائی کے چشمہ سے نکلی ہے اور تعجب یہ کہ سید صاحب قرآن کریم کو بھی منجانب اللہ مانتے ہیں اور ان کے کاموں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسلام سے محبت بھی رکھتے ہیں اور مسلمانوں کے ہمدرد بھی ہیں اور اہل اسلام کی ذریت کی دنیوی حالت کے خیر خواہ بھی۔ مگر با وصف اس کے تعجب پر تعجب یہ کہ وہ کیوں بینات قرآن کریم کے برخلاف نہایت مجہول اور منکر را ئیں ظاہر کر رہے ہیں اس کا باعث ایک نا گہانی ابتلا معلوم ہوتا ہے سید احمد خانصاحب سی۔ ایس۔ آئی۔ پر ایک ضروری اتمام حجت