آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 222
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۲۲ آئینہ کمالات اسلام (۲۲) ہے۔ اور اپنے اسرار خاصہ اس پر ظاہر کرتا ہے اور اپنے حقائق و معارف کھولتا ہے اور اپنی محبت اور عنایت کے چمکتے ہوئے علامات اس میں نمودار کر دیتا ہے اور اپنی نصر تیں اس پر اتارتا ہے اور اپنی برکات اس میں رکھ دیتا ہے اور اپنی ربوبیت کا آئینہ اس کو بنا دیتا ہے اس کی زبان پر حکمت جاری ہوتی ہے اور اس کے دل سے نکات لطیفہ کے چشمے نکلتے ہیں اور پوشیدہ بھید اس پر آشکار کئے جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ ایک عظیم الشان تجلی اس پر فرماتا ہے اور اس سے نہایت قریب ہو جاتا ہے اور وہ اپنی استجابت دعاؤں میں اور اپنی قبولیوں میں اور فتح ابواب معرفت میں اور انکشاف اسرار غیبیہ میں اور نزول برکات میں سب سے اوپر اور سب پر غالب رہتا ہے چنانچہ اس عاجز نے خدا تعالیٰ سے مامور ہو کر انہیں امور کی نسبت اور اسی اتمام حجت کی غرض سے کئی ہزار رجسٹری شدہ خط ایشیا اور یورپ اور امریکہ کے نامی مخالفوں کی طرف روانہ کئے تھے تا اگر کسی کا یہ دعوئی ہو کہ یہ روحانی حیات بجز اتباع خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی اور ذریعہ سے بھی مل سکتی ہے تو وہ اس عاجز کا مقابلہ کرے اور اگر یہ نہیں تو طالب حق بن کر یکطرفہ برکات اور آیات اور نشانوں کے مشاہدہ کے لئے حاضر آوے لیکن کسی نے صدق اور نیک نیتی سے اس طرف رخ نہ کیا اور اپنی کنارہ کشی سے ثابت کر دیا کہ وہ سب تاریکی میں گرے ہوئے ہیں ۔ اور حال میں جو ہمارے بعض ہم مذہب بھائی مسلمان کہلا کر اس روشنی سے منکر ہیں نہ قبول کرتے اور نہ صدق دل سے آتے اور آزماتے ہیں اور کافر کہنے پر کمر باندھ رہے ہیں ان سب امور کا اصل باعث نابینائی اور بخل اور شدت تعصب ہے اور ایسے لوگوں کا اسلام میں ہونا اسلام کی ہتک کا موجب نہیں اور یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ ان لوگوں کے امراض روحانی کیوں دور نہیں ہوئے اور یہ لوگ کیوں قبروں