آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 221 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 221

روحانی خزائن جلد ۵ ۲۲۱ آئینہ کمالات اسلام رہ کر اس فقرہ کو صحیح بھی سمجھا جائے کہ حضرت مسیح نے ضرور یہ دعوی کیا ہے کہ قیامت ۲۲۱۶ اور زندگی میں ہوں تو اس سے کچھ حاصل نہیں کیونکہ ایسا دعوئی جو اپنے ساتھ اپنا ثبوت نہیں رکھتا کسی کے لئے موجب فضیلت نہیں ہوسکتا اگر ایک انسان ایک امر کی نسبت دعوئی تو نہ کرے مگر وہ امر کر دکھائے تو اس دوسرے انسان سے بدرجہا بہتر ہے کہ دعویٰ تو کرے مگر اثبات دعویٰ سے عاجز رہے انجیل خود شہادت دے رہی ہے کہ حضرت مسیح کا دعویٰ اوروں کی نسبت تو کیا خود حواریوں کی حالت پر نظر ڈالنے سے ایک معترض کی نظر میں سخت قابل اعتراض ٹھہرتا ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح اپنے حواریوں کو بھی نفسانی قبروں میں ہی چھوڑ گئے ۔ اور جب ہم حضرت مسیح کے اس دعوی کو حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوئی سے مقابلہ کرتے ہیں تو اس دعویٰ اور اس دعوی میں ظلمت اور نور کا فرق دکھائی دیتا ہے ۔ حضرت مسیح کا دعوی عدم ثبوت کے ایک تنگ و تاریک گڑھے میں گرا ہوا ہے اور کوئی نو را اپنے ساتھ نہیں رکھتا لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ آفتاب کی طرح چمک رہا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جاودانی زندگی پر یہ بھی بڑی ایک بھاری دلیل ہے کہ حضرت ممدوح کا فیض جاودانی جاری ہے اور جو شخص اس زمانہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتا ہے وہ بلا شبہ قبر میں سے اٹھایا جاتا ہے اور ایک روحانی زندگی اس کو بخشی جاتی ہے نہ صرف خیالی طور پر بلکہ آثار صحیحہ صادقہ اس کے ظاہر ہوتے ہیں اور آسمانی مد دیں اور سماوی برکتیں اور روح القدس کی خارق عادت تائیدیں اس کے شامل حال ہو جاتی ہیں اور وہ تمام دنیا کے انسانوں میں سے ایک متفرد انسان ہو جاتا ہے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ اس سے ہم کلام ہوتا