آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 223 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 223

روحانی خزائن جلد ۵ ۲۲۳ آئینہ کمالات اسلام میں سے نہ نکلے کیونکہ اگر کوئی آفتاب کی طرف سے اپنے گھر کے کواڑ بند کر کے ایک ﴿۲۲۳ تاریک گوشہ میں بیٹھ جائے تو اگر اس تک آفتاب کی روشنی نہ پہنچے تو یہ آفتاب کا قصور نہیں بلکہ خود اس شخص کا قصور ہے جس نے ایسا کیا ماسوا اس کے اگر چہ یہ لوگ کیسے ہی محجوب اور دور از حقیقت ہیں مگر پھر بھی علانیہ تو حید کے قائل ہیں کسی انسان کو خدا نہیں بناتے اور بہ برکت توحید اپنے اندر ایک نور بھی رکھتے ہیں اور کسی قدر زندگی کی حرارت ان میں موجود ہے اس لئے ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ بالکل مر گئے اگر چہ خطر ناک حالت میں ہیں اگر کوئی عیسائی یا ہندو ہماری طرف سے منہ پھیر کر ایسی نکتہ چینی کرے تو وہ سخت متعصب یا سخت نادان ہے باغ میں کانٹوں کا ہونا بھی ضروری ہے ۔ جہاں پھول ہیں کانٹے بھی ہوں گے ۔ مگر فرقہ مخالفہ میں تو سراسر کانٹوں کا ہی انبار نظر آتا ہے۔ عیسائیوں کی یہ سراسر بے ہودہ باتیں ہیں کہ میسیج روحانی قیامت تھا اور مسیح میں ہو کر ہم جی اٹھے حضرات عیسائی خوب یا درکھیں کہ مسیح علیہ السلام کا نمونہ قیامت ہونا سرمو ثابت نہیں اور نہ عیسائی جی اٹھے بلکہ مردہ اور سب مردوں سے اول درجہ پر اور تنگ و تاریک قبروں میں پڑے ہوئے اور شرک کے گڑھے میں گرے ہوئے ہیں نہ ایمانی روح ان میں ہے نہ ایمانی روح کی برکت بلکہ ادنی سے ادنی درجہ توحید کا جو مخلوق پرستی سے پر ہیز کرنا ہے وہ بھی ان کو نصیب نہیں ہوا اور ایک اپنے جیسے عاجز اور نا تو ان کو خالق سمجھ کر اس کی پرستش کر رہے ہیں ۔ یا در ہے کہ توحید کے تین درجے ہیں سب سے ادنی درجہ یہ ہے کہ اپنے جیسی مخلوق کی پرستش نہ کریں نہ پتھر کی نہ آگ کی نہ آدمی کی نہ کسی ستارہ کی دوسرا درجہ یہ ہے کہ اسباب پر بھی ایسے نہ گریں کہ گویا ایک قسم کا ان کو ربوبیت کے